واشنگٹن (پاک ترک نیوز )گرین لینڈ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے مقابلے میں یورپی یونین نے آرکٹک خطے میں اپنی اقتصادی اور سیاسی موجودگی مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کرلیا۔یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے گرین لینڈ کے دورے کے دوران 20 کروڑ یورو، یعنی تقریباً 23 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے سرمایہ کاری پیکیج کا اعلان کیا۔یہ فنڈز 2026 اور 2027 کے دوران ڈیجیٹل رابطوں، پائیدار کان کنی، توانائی، سیاحت، تعلیم، ماہی گیری اور رہائش کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
یورپی یونین نے 2028 سے 2034 تک گرین لینڈ کے لیے مزید 53 کروڑ یورو مختص کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جس سے خطے میں طویل المدتی یورپی دلچسپی واضح ہوتی ہے۔ٹرمپ نے رواں سال جنوری میں گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے لیے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا گرین لینڈ کے بارے میں ’’کچھ نہ کچھ کرے گا، چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں‘‘۔امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ روس اور چین کی آرکٹک میں بڑھتی موجودگی کے باعث گرین لینڈ امریکی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ٹرمپ کے بیانات پر گرین لینڈ اور یورپی رہنماؤں نے شدید ردعمل دیا۔ گرین لینڈ کے وزیراعظم ینس فریڈرک نیلسن نے کہا کہ دھمکیوں، دباؤ اور الحاق کی باتوں کی دوستوں کے درمیان کوئی جگہ نہیں۔
دوسری جانب گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی اتحادیوں سے کشیدگی کے برعکس واشنگٹن نے افریقہ کے حوالے سے نسبتاً نرم اور کاروباری انداز اختیار کرلیا ہے۔امریکا اب افریقی ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے وعدوں کے ذریعے تعلقات بڑھا رہا ہے، جس کا ایک اہم مقصد براعظم کے اہم معدنی وسائل تک رسائی حاصل کرنا ہے۔کانگو اس حکمت عملی کا نمایاں مرکز بن چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کانگو اور روانڈا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے معاہدے میں کردار ادا کیا، جبکہ کانگو نے امریکی سرمایہ کاروں کے لیے مینگانیز، تانبے، کوبالٹ، سونے اور لیتھیم کے منصوبوں کی فہرست بھی واشنگٹن کو فراہم کی ہے۔ٹرمپ نے افریقی ممالک کے معدنی اور قدرتی وسائل کو امریکا کے لیے انتہائی قیمتی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا تیان گونگ خلا کا واحد مستقل انسانی اڈہ؟
واشنگٹن نے افریقہ میں اس دلچسپی کو سرمایہ کاری سے بھی جوڑا ہے، جس میں انگولا، کانگو اور زیمبیا کو ملانے والی لوبیٹو اٹلانٹک ریلوے کے لیے 55 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی معاونت شامل ہے۔اس کے علاوہ مڈغاسکر، کینیا اور تنزانیہ میں بھی اہم معدنیات سے متعلق امریکی اقدامات جاری ہیں۔










