انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ نے معیشت کو ڈالر پر کم انحصار کرنے کی پالیسی میں اہم کامیابی حاصل کر لی ۔وزیرِ خزانہ و مالیات مہمت شمشک نے کہا ہے کہ بینکوں میں ترک لیرا میں جمع رقوم کا تناسب گزشتہ گیارہ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ۔
مہمت شمشک کے مطابق حکومتی معاشی پالیسیوں میں تسلسل، مستقبل کے بارے میں واضح حکمتِ عملی اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کے باعث عوام کی بڑی تعداد اپنی بچتیں غیر ملکی کرنسی کے بجائے ترک لیرا میں رکھ رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق جموعی بینک جمع رقوم میں ترک لیرا کا حصہ بڑھ کر تقریباً باسٹھ فیصد ہو گیا جو گزشتہ گیارہ برس میں سب سے زیادہ ہے ،اگست دو ہزار تیئس میں یہ تناسب صرف 31.6فیصد تھا۔
وزیرِ خزانہ نے کہا حکومت مقامی کرنسی پر اعتماد مزید مضبوط بنانے، مالیاتی استحکام برقرار رکھنے اور مہنگائی پر قابو پا کر پائیدار معاشی ترقی کے لیے اپنی پالیسیوں پر عمل جاری رکھے گی۔
ترکی کے مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق تین جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں بینکاری نظام میں مجموعی جمع رقوم معمولی کمی کے بعد 31.37 کھرب ترک لیرا رہ گئیں ۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1.94 ارب ڈالر کا اضافہ
اسی عرصے کے دوران غیر ملکی کرنسی میں جمع رقوم تقریبا 25ہزار 690 کروڑ امریکی ڈالر رہیں ، جن میں اکیس ہزار 770کروڑ امریکی ڈالر ملک کے اندر رہنے والے افراد کے تھے۔ زرِ مبادلہ کی شرح میں تبدیلی کا اثر نکالنے کے بعد مقامی شہریوں کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں تین ارب پچیس کروڑ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ترکیہ کے مرکزی بینک نے بتایا کہ ملک کے مجموعی بین الاقوامی زرمبادلہ کے ذخائر ایک ہفتے میں دس ارب انچاس کروڑ ڈالر بڑھ کر159ارب 69کروڈ ڈالر ہو گئے ۔
اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 61ارب 95کروڑ ڈالر بکہ سونے کے ذخائر بڑھ کر 97 ارب 74کروڈ ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔












