ماسکو ( پاک ترک نیوز) روسی سرکاری ٹیکنالوجی ادارے روس ٹیک نے پانچویں نسل کے جدید ترین جنگی طیارے ایس یو 57 کے انجن کی کارکردگی سے متعلق نئی تفصیلات جاری کردی ہیں۔روس ٹیک کے مطابق ایس یو 57 کا انجن طیارے کو انتہائی پیچیدہ اور خطرناک فضائی کرتب انجام دینے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے پائلٹ دشمن کے میزائل حملوں سے بچنے کے لیے تیزی سے سمت تبدیل کرسکتا ہے۔روس ٹیک نے رواں سال بھارت میں ہونے والی ایرو انڈیا نمائش کے دوران روسی آزمائشی پائلٹ سرگئی بوگدان کی جانب سے ایس یو 57 کے مظاہرے کو اس صلاحیت کا واضح ثبوت قرار دیا۔
روسی ادارے کے مطابق سرگئی بوگدان نے ایس یو 57 کو انتہائی پیچیدہ فضائی حرکات کروائیں، جن میں ایسی حرکات بھی شامل تھیں جن کے دوران طیارہ تقریباً 600 میٹر کی بلندی پر لمحاتی طور پر ساکن ہوگیا۔ روس ٹیک کے مطابق اس انتہائی مشکل فضائی کرتب کے دوران انجن کے اندرونی حصے کا درجہ حرارت تقریباً 2 ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔روسی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ انجن کے لیے انتہائی سخت حرارتی آزمائش ہوتی ہے، تاہم اس کا ڈیزائن اور مضبوط ساخت اسے ایسے انتہائی حالات برداشت کرنے کے قابل بناتی ہے۔روس ٹیک کے مطابق ایس یو 57 کی غیر معمولی پھرتی اور تیز رفتاری صرف فضائی مظاہروں تک محدود نہیں بلکہ جنگی صورتحال میں بھی اس کی عملی اہمیت ہے، کیونکہ انتہائی تیز اور پیچیدہ حرکات کے ذریعے طیارہ دشمن کے میزائلوں سے بچنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ایف 35 جنگی طیارے کی قیمت 12 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی
ایس یو 57 اس وقت اے ایل 41 ایف 1 انجن استعمال کررہا ہے۔ یہ انجن سابق سوویت دور کے اے ایل 31 ایف انجن سے اخذ کیا گیا ہے، تاہم اس میں جدید ٹیکنالوجی اور بہتر کارکردگی کی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔ایس یو 57 کو ابتدا ہی سے روس کے نئے نسل کے انجن اے ایل 51 ایف کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، تاہم اس انجن کی تیاری میں تاخیر کے باعث اسے ابھی تک بڑے پیمانے پر سروس میں شامل نہیں کیا جاسکا۔روسی حکام کے مطابق نئے انجن کو مستقبل میں بہتر بنائے گئے ایس یو 57 ایم 1 طیارے میں شامل کیے جانے کی توقع ہے، جس کے تقریباً 2030 کے آس پاس عملی سروس میں آنے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔











