واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے ایران کے ساتھ تنازع کا مستقل حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی معاہدہ ہے۔ ایران سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں کے پاس مسلسل اور غیر مؤثر بمباری کے سوا کوئی حقیقت پسندانہ منصوبہ نہیں۔
امریکی نائب صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجے گا، اگر ایرانی عوام اپنے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہو گا۔
امریکی نائب صدر نے کہا ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک قلیل مدتی مقصد تھا، امریکا کی ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی تیل و گیس کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پر اظہارتشویش
جے ڈی وینس نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں ایک غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہم پر بھاری رقم خرچ کی ہے۔ غیر ملکی اثر و رسوخ کی ایسی مہم کے باوجود میں امریکی مفادات کو اولین ترجیح دوں گا۔












