کراچی (پاک ترک نیوز )پاکستان کی ریفائنری صنعت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت مقرر کرنے کے فارمولے میں ایک بار پھر ممکنہ تبدیلی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بار بار پالیسی تبدیلیوں سے ریفائنریوں کی کارکردگی متاثر اور سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوسکتا ہے۔
ریفائنری صنعت کی جانب سے حکومت کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ڈیزل کی قیمت مقرر کرنے کے فارمولے میں حالیہ مہینوں کے دوران کئی مرتبہ تبدیلی کی جا چکی ہے، جبکہ تازہ ترین تبدیلی 20 اگست 2026 سے نافذ ہوئی تھی۔
ریفائنری مالکان کو خاص طور پر ان اطلاعات پر تشویش ہے کہ حکومت ڈیزل کے درآمدی منافع کی زیادہ سے زیادہ حد 41.89 ڈالر فی بیرل سے کم کرکے 30 ڈالر فی بیرل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ صنعت کے مطابق اس اقدام سے ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں تقریباً 18 سے 20 روپے تک کمی ہوسکتی ہے۔
ریفائنری صنعت کا مؤقف ہے کہ موجودہ قیمت مقرر کرنے کا فارمولا عالمی منڈی میں ڈیزل کے لیے موجود اضافی قیمت کو درست طور پر ظاہر نہیں کرتا۔
صنعت کے مطابق اکتوبر کے لیے سعودی آرامکو کی جانب سے مقرر کردہ اضافی قیمت منفی 2 ڈالر فی بیرل ہے، جسے موجودہ قیمت کے فارمولے میں شامل کیا جاتا ہے، تاہم عملی طور پر عالمی منڈی میں ڈیزل کی درآمدی کھیپیں 15 سے 20 ڈالر فی بیرل اضافی قیمت پر پیش اور بک کی جا رہی ہیں۔
ریفائنریوں کا کہنا ہے کہ قیمت کے فارمولے اور عالمی منڈی میں حقیقی درآمدی قیمت کے درمیان بڑے فرق کے باعث اکتوبر کی ڈیزل درآمدی کھیپوں کے حصول میں پہلے ہی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
صنعت نے خبردار کیا کہ اگر ڈیزل کی قیمت میں فوری کمی کردی گئی تو زیادہ اضافی قیمت پر خریدی جانے والی درآمدی کھیپیں ریفائنریوں کے لیے تجارتی طور پر ناقابل عمل ہوسکتی ہیں۔ ایسی صورت میں متوقع موسمی طلب پوری کرنے کے لیے پیداوار بڑھانے کے بجائے ریفائنریاں اپنی پیداواری صلاحیت کم کرنے پر مجبور ہوسکتی ہیں۔
ریفائنری صنعت نے کہا ہے کہ اس نے مشکل اوقات میں حکومت کا ساتھ دیا، تاہم بار بار پالیسی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی بوجھ کو مسلسل برداشت کرنا صنعت کے لیے ممکن نہیں۔
صنعت کے مطابق حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی پرانی ریفائنریوں کی بہتری کی پالیسی کے تحت ریفائنریوں میں تقریباً 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے زیر غور ہیں۔
ریفائنری مالکان نے زور دیا کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے لیے مستحکم پالیسی، شفاف قیمتوں کا نظام اور مالی معاملات میں پیش بینی ضروری ہے۔












