بوڈاپیسٹ(پاک ترک نیوز )ہنگری نے روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان 10 روسی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
ہنگری کی وزیر خارجہ انیتا اوربان نے کہا ہے کہ روسی سفارت کاروں کو ’’ناقابل قبول‘‘ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ہنگری کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے سفارت کاروں کی مبینہ سرگرمیوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ہنگری کی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ روسی سفارت کاروں کی ملک بدری کا مطلب روس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنا نہیں ہے، تاہم ماسکو نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ روس مخالف لابی کے خلاف جواب سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔
ہنگری میں پیٹر میگیار کی حکومت نے اپریل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سابق حکومت کی روس نواز پالیسی سے واضح فاصلہ اختیار کیا ہے۔ نئی حکومت نے ماسکو کے ساتھ عملی اور حقیقت پسندانہ تعلقات برقرار رکھنے کی بات تو کی ہے، تاہم وزیر اعظم پیٹر میگیار اور وزیر خارجہ دونوں روس سے یوکرین جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
دوسری جانب روس نے مسلسل اس الزام کی تردید کی ہے کہ اس کے سفارت خانے جاسوسی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد یورپ کے مختلف ممالک سینکڑوں روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کر چکے ہیں، جبکہ ماسکو نے بھی جوابی طور پر سفارت کاروں کو نکالا ہے۔
ہنگری کے سابق انٹیلی جنس عہدیدار کا کہنا ہے کہ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ماسکو کس انداز میں جواب دیتا ہے۔ اگر روس نے جوابی اقدام کے طور پر 10 ہنگری کے سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا تو ماسکو میں ہنگری کا سفارت خانہ عملاً بند ہونے کے قریب پہنچ سکتا ہے۔









