واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) سمندر میں جنگ کا انداز بدلنے والا ہے۔۔۔امریکی بحریہ نے طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے ایسے بغیر پائلٹ جنگی طیارے تیار کرنے کی تیاری شروع کردی ہے جو دشمن کے خطرناک ترین علاقوں میں جا کر کارروائیاں کرسکیں گے۔
نیا جنگی طیارہ۔۔۔صرف نگرانی نہیں کرے گا۔۔۔بلکہ بھاری ہتھیار اٹھائے گا اور انسانی پائلٹ والے جنگی طیاروں کے ساتھ مل کر کارروائیاں بھی کرے گا۔دیکھیے یہ خصوصی رپورٹ۔۔۔امریکی بحریہ نے طیارہ بردار بحری جہازوں سے آپریٹ ہونے والے باہمی تعاون سے جنگ کرنے والے طیارے کے حصول کے لیے باضابطہ طور پر معلومات طلب کرلی ہیں۔ایسے بغیر پائلٹ جنگی طیارے تیار کرنا جو دشمن کے خطرناک علاقوں میں انسانی پائلٹ کی جان خطرے میں ڈالے بغیر مشن مکمل کرسکیں۔
امریکی بحریہ کا نیا جنگی طیارہ عام ڈرون سے کہیں زیادہ خطرناک ہوگا۔۔۔اسے دو ہزار پانچ سو پاؤنڈ وزن کے چار جنگی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے ساتھ تیار کیا جائے گا۔یعنی ایک بغیر پائلٹ طیارہ۔۔فضا میں جائے گا۔۔۔ہدف تک پہنچے گا۔۔۔اور بھاری جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کارروائی کرسکے گا۔
سب سے اہم بات۔۔۔یہ جنگی طیارہ اکیلا نہیں لڑے گا۔امریکی بحریہ اسے سپر ہارنیٹ اور جدید ترین ایف تھرٹی فائیو سی جنگی طیاروں کے ساتھ مل کر آپریٹ کرنا چاہتی ہے۔یعنی مستقبل کے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے میں۔۔۔کچھ طیارے انسان اڑائیں گے۔۔۔اور کچھ جنگجو۔۔۔بغیر پائلٹ کے میدان میں اتریں گے۔ایف تھرٹی فائیو سی، سپر ہارنیٹ اور بغیر پائلٹ طیارے ایک ساتھ پرواز کرتے ہوئےاور یہاں امریکی منصوبے کا سب سے دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔۔۔بحریہ نے یہ لازمی قرار نہیں دیا کہ نئے طیارے میں ہتھیار رکھنے کے لیے اندرونی خانہ ضرور موجود ہو۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی تیل کے بعد وینزویلا کے معدنی ذخائر پر بھی نظریں
اس کا مطلب ہے کہ امریکی بحریہ۔۔۔کم لاگت، کم پیچیدگی اور زیادہ تعداد میں بغیر پائلٹ جنگی طیارے میدان میں اتارنے کے لیے اسٹیلتھ خصوصیات پر کچھ سمجھوتہ کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔نئے بغیر پائلٹ جنگی طیارے کو تقریباً سپر ہارنیٹ جتنی جگہ میں کام کرنے کے قابل ہونا ہوگا۔اور اسے سمندر کے سخت حالات۔۔۔حتیٰ کہ پانچویں درجے کی سمندری شدت تک۔۔۔طیارہ بردار بحری جہاز سے آپریشن کرنے کے قابل بنانا ہوگا۔یعنی اونچی لہریں۔۔۔تیز ہوائیں۔۔۔اور مشکل سمندری ماحول بھی اس کے مشن میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔امریکی بحریہ نئے جنگی طیارے کی تیاری میں رفتار بھی چاہتی ہے۔اسی لیے مارکیٹ میں پہلے سے دستیاب ٹیکنالوجی اور پرزوں کے استعمال کی گنجائش رکھی گئی ہے۔۔۔
جبکہ طیارے کو طیارہ بردار بحری جہاز کے موجودہ کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور درست رہنمائی کے ذریعے لینڈنگ کے نظام کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔یعنی نیا جنگجو۔۔۔نئے نظام کا محتاج نہیں ہوگا۔۔۔بلکہ موجودہ امریکی بحری نظام کے ساتھ ہی جنگ میں شامل ہوسکے گا۔امریکا پہلے ہی ایم کیو پچیس اسٹنگرے کے ذریعے طیارہ بردار بحری جہازوں سے بغیر پائلٹ طیاروں کے استعمال کا تجربہ حاصل کر رہا ہے۔لیکن نئے جنگی طیارے کا کردار کہیں زیادہ جارحانہ ہوسکتا ہے۔یہ نگرانی کرےگا۔۔۔دشمن کے دفاع کا جائزہ لےگا۔۔۔خطرناک علاقے میں داخل ہوگا۔۔۔
اور ضرورت پڑنے پر حملہ بھی کرےگا۔اور یہ صرف امریکا کی کہانی نہیں۔۔۔فرانس اور برطانیہ بھی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے بغیر پائلٹ جنگی طیاروں کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔یعنی دنیا کی بڑی بحری طاقتیں ایک ایسے مستقبل کی تیاری کررہی ہیں جہاں طیارہ بردار بحری جہاز کے عرشے سے صرف پائلٹ والے جنگی طیارے ہی نہیں۔۔۔بلکہ خودکار اور بغیر پائلٹ جنگجوؤں کے جھنڈ بھی پرواز کریں گے۔












