واشنگٹن (پاک ترک نیوز) ایران کو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے جنگی نظام کے حصول سے روکنے کے لیے امریکا نے 1997 میں مالدووا سے روسی ساختہ 21 مگ 29 جنگی طیارے اور 500 میزائل خرید لیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق مالدووا کے پاس موجود مگ 29 طیاروں میں سے 14 مگ 29 سی ایسے تھے جنہیں امریکی حکام جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا قرار دیتے تھے۔ ایران نے بھی ان طیاروں کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔
امریکا نے نَن لوگر پروگرام کے تحت طیاروں کے ساتھ میزائل، اسپیئر پارٹس اور تکنیکی آلات بھی حاصل کیے۔ امریکی حکام کے مطابق مقصد یہ تھا کہ جدید روسی ساختہ جنگی طیارے ایران کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔
امریکی وزیر دفاع ولیم کوہن نے نومبر 1997 میں اس خریداری کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں امریکی ماہرین نے ان طیاروں کو اوہائیو کے رائٹ پیٹرسن ایئر فورس بیس منتقل کیا، جہاں ان کے ریڈار، ایویونکس، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور ہتھیاروں سے متعلق ٹیکنالوجی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ترک صدر کا ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ، ایران سے مذاکرات جاری رکھنے پر زور
رپورٹ کے مطابق مگ 29 تقریباً 2.3 میک کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور اپنے وقت کے جدید لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتا تھا۔
تاہم ’’جوہری صلاحیت‘‘ کے معاملے پر اختلاف بھی موجود تھا۔ روسی حکام کا مؤقف تھا کہ جوہری ہتھیار لے جانے سے متعلق مخصوص آلات 1989 میں ہی ہٹا دیے گئے تھے۔
امریکی حکام کے مطابق طیاروں کی خریداری کے دو مقاصد تھے؛ ایک ایران کو جدید جنگی طیاروں کے حصول سے روکنا اور دوسرا روسی ساختہ مگ 29 کے نظام کا براہِ راست مطالعہ کرکے امریکی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانا۔
رپورٹ کے مطابق تمام 21 طیاروں کی موجودہ حالت اور حتمی انجام کی مکمل تفصیلات امریکا نے عوامی سطح پر جاری نہیں کیں، تاہم کچھ طیارے امریکی عجائب گھروں اور عسکری تربیتی مراکز میں نمائش کے لیے موجود ہیں۔












