واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) جنگ کا میدان بدل رہا ہے۔۔۔میزائل کے بجائے اب روشنی کی شعاعیں دشمن کو نشانہ بنا رہی ہیں۔۔۔آبنائے ہرمز میں امریکی فوج نے ڈرونز کے خلاف لیزر ہتھیار میدان میں اتار دیے۔۔۔اور حیران کن بات یہ کہ ان ہائی ٹیک ہتھیاروں کو ایکس باکس جیسے کنٹرولر سے چلایا جا رہا ہے۔۔۔سوچیے۔۔۔فضا میں ایک ڈرون تیزی سے بڑھ رہا ہو۔۔۔اچانک اسے نشانہ بنانے کے لیے کوئی میزائل فائر نہ ہو۔۔۔کوئی دھماکا نہ ہو۔۔۔صرف روشنی کی ایک انتہائی طاقتور شعاع ہدف پر پڑے۔۔۔اور چند لمحوں بعد ڈرون ناکارہ ہوکر سمندر میں جا گرے۔۔۔یہ مستقبل کی جنگ کا وہ منظر ہے جسے امریکا اب حقیقت میں آزما رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات کے خلاف ہدایت شدہ توانائی پر مبنی لیزر نظام استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ ہتھیار روایتی میزائل کی طرح دھماکا خیز وار ہیڈ استعمال نہیں کرتا۔۔۔بلکہ بجلی سے پیدا ہونے والی انتہائی مرکوز توانائی کی شعاع ہدف کے مخصوص حصے پر مسلسل مرکوز کی جاتی ہے۔پہلے حساس آلات ڈرون کو تلاش کرتے ہیں۔۔۔پھر اس کی حرکت کا تعاقب کیا جاتا ہے۔۔۔لیزر ہدف کے ایک مخصوص مقام پر مرکوز ہوتی ہے۔۔۔اور چند سیکنڈ تک جاری رہنے والی شدید حرارت ڈرون کے حساس آلات، برقی نظام یا اہم ساختی حصوں کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا فوج کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ،بیرسٹر گوہر
گولی نہیں۔۔۔ میزائل نہیں۔۔۔ صرف روشنی، اور ہدف ختم!لیکن امریکی لیزر ہتھیاروں کی کہانی کا ایک اور حیران کن پہلو بھی سامنے آیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بعض فوجی اہلکار ان پیچیدہ ہتھیاروں کو ترمیم شدہ ایکس باکس جیسے کنٹرولر سے چلا رہے ہیں۔ایسا کنٹرولر جسے دنیا بھر میں کھیل کھیلنے کے لیے جانا جاتا ہے۔۔۔اب اسی طرز کا کنٹرول امریکی فوجی ہتھیاروں کو ہدف تک پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔امریکی فوج صرف تجربہ نہیں کر رہی۔۔۔نئی نسل کے طاقتور لیزر ہتھیاروں کی تیاری کے لیے تقریباً نصف ارب ڈالر کے معاہدے بھی کیے جا رہے ہیں۔وجہ بھی واضح ہے۔۔۔کم لاگت والے ڈرونز کی بڑی تعداد کے مقابلے میں ہر بار مہنگا میزائل داغنا ایک مہنگا دفاعی عمل ہے











