واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا کی متعدد ریاستوں میں پانی کی فراہمی کے نظام پر ہونے والے سائبر حملوں نے حکام اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق بعض واٹر سسٹمز کی کارکردگی متاثر ہوئی، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق منیسوٹا سمیت مختلف ریاستوں میں پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے شواہد سامنے آئے ہیں، جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حملے ایک ہی نیٹ ورک یا گروہ کی جانب سے کیے گئے یا مختلف واقعات آپس میں غیر متعلق ہیں۔
اگرچہ بعض سائبر سیکیورٹی ماہرین نے ممکنہ غیر ملکی مداخلت کا خدشہ ظاہر کیا ہے، تاہم امریکی حکام نے تاحال کسی ملک یا گروہ کو باضابطہ طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ تحقیقات مکمل ہونے تک حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں حتمی رائے دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
ادھر سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے، جہاں مختلف رہنماؤں نے ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہوئے اہم تنصیبات کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر حساس انفراسٹرکچر کی مسلسل نگرانی اور جدید سیکیورٹی نظام ناگزیر ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس کا بھارت کو رافیل کے حساس سورس کوڈز کی فراہمی سےپھر انکار
سائبر ماہرین کے مطابق اگر اس نوعیت کے حملے کامیاب ہو جائیں تو پانی کی فراہمی، نگرانی کے نظام اور دیگر ضروری خدمات متاثر ہو سکتی ہیں، اسی لیے متعلقہ ادارے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید سائبر سیکیورٹی، بروقت نگرانی اور پرانے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن انتہائی اہم ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے۔












