ایران کے ساتھ جنگ نے امریکا کو اپنی مشرقِ وسطیٰ پالیسی پر نظرِثانی کرنے پر مجبور کردیا۔۔۔وہ خطہ جہاں نائن الیون کے بعد امریکا نے اپنی فوجی موجودگی کئی گنا بڑھائی، اب وہیں سے امریکی فوجی اڈے اور اہلکار کم کرنے پر غور شروع ہوگیا ہے۔ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی تنصیبات کی کمزوریاں بے نقاب کردیں۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ایران جنگ کے بعد امریکا واقعی مشرقِ وسطیٰ سے پیچھے ہٹنے کی تیاری کررہا ہے؟نائن الیون کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طاقت کا پھیلاؤ۔۔۔عراق، افغانستان، شام اور خطے کے دیگر ممالک میں جنگیں۔۔۔ہزاروں فوجی۔۔۔درجنوں فوجی تنصیبات۔۔۔اور خطے میں امریکی انٹیلی جنس کا وسیع نیٹ ورک۔۔۔لیکن ایران کے ساتھ حالیہ جنگ نے امریکا کے اس پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی فوج اور خفیہ اداروں میں مشرقِ وسطیٰ میں اہلکاروں اور مستقل تنصیبات کی تعداد کم کرنے کے امکانات پر خاموش مشاورت جاری ہے۔اس وقت بھی خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔امریکی بحریہ کے دو بڑے جنگی جہاز اور ایک درجن سے زائد گائیڈڈ میزائل بردار تباہ کن جہاز بھی خطے میں تعینات ہیں۔لیکن ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے کئی امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔۔۔بحرین۔۔۔قطر۔۔۔سعودی عرب۔۔۔کویت۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی بہن علیمہ خان کو گرفتار کر لیا گیا
اور خطے کے دیگر مقامات پر موجود امریکی تنصیبات حملوں کی زد میں آئیں۔امریکی حکام کے مطابق جنگ میں 18 امریکی فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ امریکی فوج اب اپنے کچھ اہم اڈوں کو زیرِ زمین منتقل کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔یعنی ایران کے حملوں نے امریکا کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ خطے میں بڑی مستقل فوجی موجودگی برقرار رکھنا کس حد تک محفوظ ہے؟ذرائع کے مطابق امریکا بعض شدید متاثرہ تنصیبات کو دوبارہ تعمیر کرنے کے بجائے انہیں مستقل طور پر ختم کرنے پر بھی غور کرسکتا ہے۔وجہ صرف سکیورٹی نہیں۔۔۔
اربوں ڈالر کی تعمیر نو کی لاگت بھی بڑا سوال بن چکی ہے۔امریکی فوج کے اندر یہ تجویز بھی زیرِغور ہے کہ بعض حساس کارروائیوں کے لیے مستقل اڈوں کے بجائے امریکا میں موجود اہلکاروں اور وسائل کو ضرورت کے وقت مشرقِ وسطیٰ بھیجا جائے اور کارروائی کے بعد واپس بلا لیا جائے۔دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع خطے میں اپنے اتحادی ممالک پر دفاعی ذمہ داری کا زیادہ بوجھ ڈالنے پر بھی غور کررہا ہے۔یعنی امریکا کا ممکنہ نیا منصوبہ واضح ہے۔۔۔ فوج کم۔۔۔مستقل اڈے کم۔۔۔اور علاقائی اتحادیوں کی ذمہ داری زیادہ لیکن معاملہ اتنا آسان بھی نہیں۔ایران کے ساتھ کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی، امریکی فوجی اڈے اب بھی ممکنہ ایرانی حملوں کی زد میں ہیں۔اور امریکا کے لیے بحرین میں قائم پانچویں بحری بیڑے سمیت کئی اہم فوجی مراکز خطے میں اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔












