تہران ( پاک ترک نیوز) ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک اس کی شرائط پوری نہیں ہوتیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک اس کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں اور امریکا کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔
قالیباف نے کہا کہ ایران کو لڑائی بھی جاری رکھنی ہوگی اور مذاکرات بھی کرنے ہوں گے، تہران اپنے دشمنوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرے گا، جبکہ مناسب وقت آنے پر میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لیے سفارت کاری سے کام لے گا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
جی سی سی سیکریٹریٹ جنرل کے ایک بیان کے مطابق گوتریس نے جی سی سی کے سربراہ جاسم محمد البدیوی سے نیویارک میں ملاقات کی، یہ ملاقات جی سی سی سربراہ کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے موقع پر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا مشرق وسطیٰ سے بھاگنے کو تیار
بیان میں کہا گیا کہ دونوں عہدیداروں نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں اور شہری تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ ایسی جارحانہ کارروائیاں علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔












