اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی نجی ہسپتال منتقلی سے متعلق مقدمہ سپریم کورٹ سے منتقل کرنے کا حکم دے دیا، جس کے بعد سپریم کورٹ اب اس معاملے کی سماعت نہیں کر سکے گی۔وفاقی آئینی عدالت نے حکومت کی نظرثانی اور توہین عدالت سے متعلق درخواستیں بھی اپنے پاس منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تین قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی سمیت نجی ہسپتال میں طبی سہولیات فراہم کرنے کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔وفاقی آئینی عدالت نے ملک کی تمام ہائیکورٹس سے بھی اس نوعیت کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ کسی بھی ہائیکورٹ میں اسی نوعیت کا مقدمہ زیر التوا ہے تو اس کا ریکارڈ وفاقی آئینی عدالت کو بھجوایا جائے۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 175 ای کی ذیلی شق 5 کے تحت وفاقی آئینی عدالت آئینی تشریح کے سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ آئین اور قانون کا اطلاق امیر اور غریب پر برابر ہونا چاہیے۔جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ میں اس معاملے پر اعتراض اٹھایا گیا تھا؟
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 13 شہری زخمی
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو نوٹس جاری کیے بغیر حکم دیا تھا، جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا۔جسٹس علی باقر نجفی نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ کو پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ طے نہیں کرنا چاہیے تھا؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا، بالکل ایسے ہی ہے۔اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ آئینی تشریح کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمہ فوجداری نوعیت کا ہے، جبکہ ہمارے پاس مقدمہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آیا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم ابھی عبوری نوعیت کا ہے۔جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ اصل سوال اختیار سماعت کا ہے، سوال یہ ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمہ اب کون سن سکتا ہے۔












