واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے حوالے سے نئی پابندیوں پر عمل درآمد کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کر دی۔قدامت پسند اکثریت رکھنے والی سپریم کورٹ نے ضلعی جج اندرا ٹلوانی کے حکم کو ختم کرنے سے انکار کر دیا، جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے متعلق اقدام پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ کا تازہ فیصلہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشین گیمز، پاکستان کرکٹ ٹیم 24 ستمبر کو جاپان روانہ ہوگی
ٹرمپ انتظامیہ نے مارچ میں جاری انتظامی حکم کے ذریعے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے قواعد سخت کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد امریکی محکمہ ڈاک نے نیا ضابطہ نافذ کیا۔نئے ضابطے کے تحت ریاستوں کو ووٹروں کی فہرست محکمہ ڈاک کو فراہم کرنا اور محکمہ ڈاک سے پہلے سے منظور شدہ بیلٹ لفافے استعمال کرنا لازم قرار دیا گیا تھا۔ضلعی جج اندرا ٹلوانی نے اس ضابطے کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ یہ اقدام ممکنہ طور پر امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے اور وسط مدتی انتخابات قریب ہونے کے باعث اس پر عمل درآمد بھی ممکن نہیں ہوگا۔












