پیر , 7 ستمبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

امریکی فوج کی بحر الکاہل کمانڈ کے نام کی تبدیلی

2 مہینے پہلے
A A
Renaming of the US military's Pacific Command
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار

امریکہ کی جانب سے ہند بحرالکاہل کمانڈ کا نام بدل کر دوبارہ امریکی بحر الکاہل کمانڈ کرنے کے بعد بھارت کے دفاعی او سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اور تازہ امریکی اقدام کے تناظر میں کہا جا رہا ہے کہ اب بھارت کا ہند بحر الکاہل میں کوئی تزویراتی کردار نہیں رہا۔ اور یوں بھی کہا جا رہا ہے کہ اب ایشیا بحر الکاہل کےخطے میں اب امریکہ کو بھارت کی کوئی جغرافیائی و سیاسی ضرورت نہیں رہی۔

اس سے قبل 2018میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں جب امریکی افواج کی اس سب سے بڑی کمانڈ کا نام تبدیل کیا گیا تھا۔ تب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹسنے کہا تھا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ بحرِ ہند اور خود ہندوستان کی بھی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ اس لیے میں یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ہم حقیقت کی عکاسی کریں۔اور محض آٹھ برس بعد ہی یہ حقیقت بدل گئی ہے۔اور امریکی مسلح افواج کی چھٹی مگر سب سے ااہم کمانڈ کو اسکا اصل نام واپس مل گیا ہے۔

اس تبدیلی پر بھارتی سیاسی و دفاعی حلقوں اور میڈیا میں کہرام مچا ہواہے۔مودی کے گودی میڈیا نے تو اسے سیدھے سیدھے ٹرمپ انتظامیہ کی بھارت دشمنی سے تعبیر کیا ہے ۔اور امریکی حکومت کے حوالے سے کیچڑ اچھالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اسی دوران یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ امریکی فوج کے نقشے میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ کو امریکہ کی بھارت دشمنی کا ثبوت ہے۔

جبکہ غیر جانبدار اور سنجیدہ تجزیہ کاروں کی جانب سے مودی سرکار سے اپنے گریبان میں جھانکنے اور علاقائی و عالمی سطحوں پر اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامی پر سرجوڑ کربیٹھنے اور بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

جنوبی ایشیا میں بھارتی اثرورسوخ میں تاریخی کمی اور پاکستان کے امریکہ ۔ایران جنگ بندی اور قیاام امن میں بطور ثالث تاریخی کردار کو بڑی تبدیلی گردانا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی بیک یارڈ ڈاکٹرائن اب اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے۔ اور آنے والے دنوں میں جنوبی ایشیا کے خطے میںچین اور پاکستان کا سیاسی، معاشی اور عسکری اثر و رسوخ ہو گا۔چنانچہ اب پاکستان کے امن کے داعی ملک کے طور پر ابھرتے ہوئے عالمی کردارکے پیش نظر اس سے تعلقات کی بحالی اور تنازعات کے پر امن حل کی جانب پیش رفت وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسی ضمن میں مستحکم اور آزاد ہند بحر الکاہل کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئےامریکہ، آسٹریلیا،ہندوستان اور جاپان کے درمیان ایک سفارتی شراکت داری جسے کوارڈ اتحاد کا نام دیا گیاتھا کا حوالہ دیتے ہوئےکانگریس کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ ششی تھرور کا تبصرہ انتہائی اہم ہے جس میں انہوں نےاس پیشرفت پر سوال کیا ہےکہ آیا یہ اقدام کواڈ اتحاد کے تابوت میں ایک اور کیل ہے؟

یہ بھی پڑھیں: امریکی ایف-15 پر ایرانی فضا میں پراسرار حملہ؟

امریکی مسلح افواج کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی بحر الکاہل کمانڈ 70 برس قبل صدر ہیری ٹرومین نے قائم کی تھی جو کہ امریکہ کی مشترکہ جنگی کمانڈز میں سب سے قدیم اور سب سے بڑی ہے۔امریکی بحر الکاہل کمانڈ امریکی محکمہ دفاع کے ’یونیفائیڈ کمانڈ پلان (یو سی پی) کے تحت تعینات کردہ چھ جغرافیائی جنگی کمانڈز میں سے ایک ہے۔اور اس کمانڈ کا دائرہ اثردیگر تمام جغرافیائی جنگی کمانڈز کے مقابلے میں دنیا کے زیادہ حصے پر محیط ہے ۔جو امریکہ کے مشرقی ساحلوں سے لیکر بحر ہند کے اور یہ باقی پانچوں جغرافیائی جنگی کمانڈز کی حدود سے متصل ہے۔اس کمانڈ کے پاس فوج، بحریہ، فضائیہ اور میرین کور کی افواج کے استعمال اور انضمام کی ذمہ داری ہے۔

امریکی بحر الکاہل کمانڈ کا سربراہ وزیرِ دفاع کے ذریعے ریاستہائے متحدہ کے صدر کو جوابدہ ہوتا ہے، اور اسے متعدد جزوی اور ذیلی متحدہ کمانڈز کی معاونت حاصل ہوتی ہے جن میں کوریا، جاپان، سپیشل آپریشنز کمانڈبحر الکاہل، بحریہ کابحر الکاہل فلیٹ، بحر الکاہل میرین فورسز،بحر الکاہل ایئر فورسز اور آرمی کی بحر الکاہل کی ذیلی کمانڈز شامل ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق یہ کمان اس لیے اہم ہے کیونکہ اس خطے میں دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں سے دو واقع ہیں۔ساتھ ہی 14 میں سے 10 سب سے چھوٹی معیشتیں بھی یہیں موجود ہیں۔اس کمان کے زیرِ اثر علاقے میںدنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک، سب سے بڑی جمہوریت اور سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک شامل ہیں۔

امریکی بحر الکاہل کمانڈ کے مطابق یہ خطہ عالمی معیشت کا ایک اہم محرک ہے اور اس میں دنیا کی مصروف ترین بین الاقوامی سمندری گزرگاہیں اور 10 میں سے نو بڑی بندرگاہیں شامل ہیں۔چنانچہ ایشیا بحر الکاہل ایک بڑا عسکری نوعیت کا علاقہ بھی ہے جہاں دنیا کی دس بڑی مستقل فوجوں میں سے سات اور پانچ جوہری ممالک موجود ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر اس خطےکی تزویراتی پیچیدگی بھی منفرد ہے۔

موضوعات : #americausarmy
ShareSend

متعلقہ خبریں

US's one-megawatt nuclear battery enters testing phase
تازہ ترین

امریکا کی ایک میگاواٹ نیوکلیئر بیٹری تجربات کے مرحلے میں داخل

29 اگست , 2026
Deadlock in US-Canada talks; fear of tariff hikes on Canadian vehicles.
تازہ ترین

امریکا ،کینیڈا مذاکرات میں ڈیڈ لاک، کینیڈین گاڑیوں پر محصولات میں اضافے کا خدشہ

27 اگست , 2026
Who holds the largest share of U.S. debt
تازہ ترین

امریکا کا سب سے زیادہ قرض کس کے پاس؟

27 اگست , 2026
Trump announces devastating economic sanctions against Iran.
تازہ ترین

ٹرمپ کا ایران کے خلاف تباہ کن معاشی پابندیوں کا اعلان

20 اگست , 2026
The US has purchased 21 Russian-made fighter jets to prevent Iran from acquiring nuclear capabilities.
تازہ ترین

ایران کو ایٹمی صلاحیت سے روکنے کے لیے امریکا نے روسی ساختہ 21 جنگی طیارے خرید لیے

18 اگست , 2026
Crisis of amenities on US warship; personnel distressed!
اہم ترین 3

امریکی جنگی جہاز پر سہولیات کا بحران، اہلکار پریشان!

17 اگست , 2026
اگلی خبر
Ashura Day is being observed in memory of the great sacrifices of the martyrs of Karbala.

شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں یوم عاشور منایا جا رہا ہے

یہ بھی پڑھیں

Details released regarding the extraordinary performance of Russia's Su-57 fighter jet.

روس کے ایس یو 57جنگی طیارے کی غیر معمولی کارکردگی کی تفصیلات جاری

6 ستمبر , 2026
Forced displacement of Palestinians from Gaza unacceptable; eight Islamic nations, including Pakistan, deliver a categorical response to Israel.

غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی نامنظور، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو دوٹوک جواب

6 ستمبر , 2026
Pakistani scientist Dr. Hina Siddiqui elected Fellow of the Royal Society of Chemistry.

پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر حنا صدیقی رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی فیلو منتخب

6 ستمبر , 2026
Poor internet connectivity in Gilgit-Baltistan hampers tourism and disaster response efforts.

گلگت بلتستان میں ناقص انٹرنیٹ رابطہ، سیاحت اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں مشکلات

6 ستمبر , 2026
Serhat Kılıç, the renowned actor from Kuruluş Osman, was found dead at home.

کورولوش عثمان کے معروف اداکار سرحات کیلیچ گھر میں مردہ پائے گئے

6 ستمبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔