
از: سہیل شہریار
امریکہ کی جانب سے ہند بحرالکاہل کمانڈ کا نام بدل کر دوبارہ امریکی بحر الکاہل کمانڈ کرنے کے بعد بھارت کے دفاعی او سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اور تازہ امریکی اقدام کے تناظر میں کہا جا رہا ہے کہ اب بھارت کا ہند بحر الکاہل میں کوئی تزویراتی کردار نہیں رہا۔ اور یوں بھی کہا جا رہا ہے کہ اب ایشیا بحر الکاہل کےخطے میں اب امریکہ کو بھارت کی کوئی جغرافیائی و سیاسی ضرورت نہیں رہی۔
اس سے قبل 2018میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں جب امریکی افواج کی اس سب سے بڑی کمانڈ کا نام تبدیل کیا گیا تھا۔ تب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹسنے کہا تھا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ بحرِ ہند اور خود ہندوستان کی بھی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ اس لیے میں یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ہم حقیقت کی عکاسی کریں۔اور محض آٹھ برس بعد ہی یہ حقیقت بدل گئی ہے۔اور امریکی مسلح افواج کی چھٹی مگر سب سے ااہم کمانڈ کو اسکا اصل نام واپس مل گیا ہے۔
اس تبدیلی پر بھارتی سیاسی و دفاعی حلقوں اور میڈیا میں کہرام مچا ہواہے۔مودی کے گودی میڈیا نے تو اسے سیدھے سیدھے ٹرمپ انتظامیہ کی بھارت دشمنی سے تعبیر کیا ہے ۔اور امریکی حکومت کے حوالے سے کیچڑ اچھالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اسی دوران یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ امریکی فوج کے نقشے میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ کو امریکہ کی بھارت دشمنی کا ثبوت ہے۔
جبکہ غیر جانبدار اور سنجیدہ تجزیہ کاروں کی جانب سے مودی سرکار سے اپنے گریبان میں جھانکنے اور علاقائی و عالمی سطحوں پر اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامی پر سرجوڑ کربیٹھنے اور بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھارتی اثرورسوخ میں تاریخی کمی اور پاکستان کے امریکہ ۔ایران جنگ بندی اور قیاام امن میں بطور ثالث تاریخی کردار کو بڑی تبدیلی گردانا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی بیک یارڈ ڈاکٹرائن اب اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے۔ اور آنے والے دنوں میں جنوبی ایشیا کے خطے میںچین اور پاکستان کا سیاسی، معاشی اور عسکری اثر و رسوخ ہو گا۔چنانچہ اب پاکستان کے امن کے داعی ملک کے طور پر ابھرتے ہوئے عالمی کردارکے پیش نظر اس سے تعلقات کی بحالی اور تنازعات کے پر امن حل کی جانب پیش رفت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسی ضمن میں مستحکم اور آزاد ہند بحر الکاہل کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئےامریکہ، آسٹریلیا،ہندوستان اور جاپان کے درمیان ایک سفارتی شراکت داری جسے کوارڈ اتحاد کا نام دیا گیاتھا کا حوالہ دیتے ہوئےکانگریس کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ ششی تھرور کا تبصرہ انتہائی اہم ہے جس میں انہوں نےاس پیشرفت پر سوال کیا ہےکہ آیا یہ اقدام کواڈ اتحاد کے تابوت میں ایک اور کیل ہے؟
یہ بھی پڑھیں: امریکی ایف-15 پر ایرانی فضا میں پراسرار حملہ؟
امریکی مسلح افواج کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی بحر الکاہل کمانڈ 70 برس قبل صدر ہیری ٹرومین نے قائم کی تھی جو کہ امریکہ کی مشترکہ جنگی کمانڈز میں سب سے قدیم اور سب سے بڑی ہے۔امریکی بحر الکاہل کمانڈ امریکی محکمہ دفاع کے ’یونیفائیڈ کمانڈ پلان (یو سی پی) کے تحت تعینات کردہ چھ جغرافیائی جنگی کمانڈز میں سے ایک ہے۔اور اس کمانڈ کا دائرہ اثردیگر تمام جغرافیائی جنگی کمانڈز کے مقابلے میں دنیا کے زیادہ حصے پر محیط ہے ۔جو امریکہ کے مشرقی ساحلوں سے لیکر بحر ہند کے اور یہ باقی پانچوں جغرافیائی جنگی کمانڈز کی حدود سے متصل ہے۔اس کمانڈ کے پاس فوج، بحریہ، فضائیہ اور میرین کور کی افواج کے استعمال اور انضمام کی ذمہ داری ہے۔
امریکی بحر الکاہل کمانڈ کا سربراہ وزیرِ دفاع کے ذریعے ریاستہائے متحدہ کے صدر کو جوابدہ ہوتا ہے، اور اسے متعدد جزوی اور ذیلی متحدہ کمانڈز کی معاونت حاصل ہوتی ہے جن میں کوریا، جاپان، سپیشل آپریشنز کمانڈبحر الکاہل، بحریہ کابحر الکاہل فلیٹ، بحر الکاہل میرین فورسز،بحر الکاہل ایئر فورسز اور آرمی کی بحر الکاہل کی ذیلی کمانڈز شامل ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق یہ کمان اس لیے اہم ہے کیونکہ اس خطے میں دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں سے دو واقع ہیں۔ساتھ ہی 14 میں سے 10 سب سے چھوٹی معیشتیں بھی یہیں موجود ہیں۔اس کمان کے زیرِ اثر علاقے میںدنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک، سب سے بڑی جمہوریت اور سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک شامل ہیں۔
امریکی بحر الکاہل کمانڈ کے مطابق یہ خطہ عالمی معیشت کا ایک اہم محرک ہے اور اس میں دنیا کی مصروف ترین بین الاقوامی سمندری گزرگاہیں اور 10 میں سے نو بڑی بندرگاہیں شامل ہیں۔چنانچہ ایشیا بحر الکاہل ایک بڑا عسکری نوعیت کا علاقہ بھی ہے جہاں دنیا کی دس بڑی مستقل فوجوں میں سے سات اور پانچ جوہری ممالک موجود ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر اس خطےکی تزویراتی پیچیدگی بھی منفرد ہے۔












