واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) دنیا کی جدید ترین بحری افواج میں شمار ہونے والی امریکی نیوی کے ایک بڑے جنگی جہاز پر جنگی خطرات کے ساتھ ایک اور مشکل نے توجہ حاصل کرلی ہے، اور یہ مسئلہ دشمن کا حملہ نہیں بلکہ روزمرہ کی بنیادی سہولیات سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔
امریکی بحری بیڑے کے جنگی جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس میں طویل تعیناتی کے دوران اہلکاروں کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض شکایات میں صابن، ٹوتھ پیسٹ، ڈیوڈرنٹ، گرم پانی اور دیگر ضروری اشیا کی دستیابی متاثر ہونے کی بات کی گئی، جبکہ واش رومز، لانڈری اور وینٹی لیشن کے نظام سے متعلق بھی تحفظات سامنے آنے کا دعویٰ ہے۔
صرف صفائی ستھرائی ہی نہیں، خوراک کی فراہمی بھی مبینہ طور پر مشکلات کا شکار رہی۔ رپورٹس کے مطابق طویل سمندری تعیناتی کے دوران تازہ پھل، سبزیاں اور دودھ جیسی اشیا محدود ہونے کی شکایات سامنے آئیں، جبکہ سپلائی میں تاخیر نے اہلکاروں کے لیے صورتحال مزید مشکل بنا دی۔
ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک سمندر میں تعیناتی صرف جسمانی تھکن ہی نہیں بلکہ ذہنی دباؤ بھی بڑھا سکتی ہے۔ مسلسل ڈیوٹیاں، جنگی الرٹ کی کیفیت اور اہلِ خانہ سے طویل دوری اہلکاروں کے مورال کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مفاہمتی یادداشت کی امریکی خلاف ورزیاں ہونے تک بات چیت نہیں کریں گے ،ایرانی وزیر خارجہ
کچھ رپورٹس میں شدید ذہنی دباؤ اور خودکشی سے متعلق واقعات یا کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور تمام تفصیلات کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید جنگی صلاحیتوں سے لیس ایک بحری جہاز پر اگر بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر ہونے لگے تو اس کے اثرات اہلکاروں کی کارکردگی اور جنگی استعداد پر کس حد تک پڑ سکتے ہیں؟
کیونکہ سمندر میں طویل تعیناتی کے دوران صرف ہتھیار اور جنگی نظام ہی اہم نہیں ہوتے، بلکہ صاف پانی، مناسب خوراک، صفائی اور اہلکاروں کی ذہنی و جسمانی صحت بھی جنگی صلاحیت کا لازمی حصہ ہیں۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن سے متعلق یہ مبینہ شکایات ایک اہم سوال ضرور اٹھاتی ہیں: کیا جدید ترین جنگی مشینری کے پیچھے موجود انسانی نظام بھی اتنا ہی مضبوط ہے؟












