اوٹاوہ ( پاک ترک نیوز) امریکا اور کینیڈا کے درمیان گاڑیوں پر عائد محصولات کم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے، جس کے بعد کینیڈا میں تیار ہونے والی گاڑیوں پر امریکی محصولات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
مجوزہ معاہدے کے تحت کینیڈا سے امریکا آنے والی گاڑیوں اور ہلکے ٹرکوں پر زیادہ سے زیادہ محصول 25 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کی تجویز تھی، تاہم مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ ریلیف فی الحال نہیں مل سکا۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں امریکا میں فروخت ہونے والی گاڑیوں میں کینیڈا میں تیار ہونے والی گاڑیوں کا حصہ تقریباً 6 فیصد تھا، تاہم موجودہ محصولات برقرار رہنے یا مزید بڑھنے سے امریکی آٹو کمپنیوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
فورڈ، جنرل موٹرز، اسٹیلانٹس، ٹویوٹا اور ہونڈا سمیت کئی بڑی کمپنیوں کے ایسے ماڈلز متاثر ہوسکتے ہیں جو کینیڈا میں تیار ہوکر امریکی مارکیٹ میں فروخت ہوتے ہیں۔ گاڑیوں کے پرزہ جات پر زیادہ محصول امریکی آٹو صنعت کی پوری سپلائی چین کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق جنرل موٹرز کے مقبول شیورلے سلوراڈو پک اپ ٹرک کی تقریباً 17 فیصد پیداوار کینیڈا میں ہوتی ہے، جبکہ اسٹیلانٹس کی کرسلر پیسفیکا کی تیاری کے لیے کینیڈا اس کا واحد مرکز ہے۔ فورڈ بھی اوک ول پلانٹ سے بڑے ٹرک امریکا درآمد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا سب سے زیادہ قرض کس کے پاس؟
جاپانی کمپنیوں ٹویوٹا اور ہونڈا کو بھی زیادہ محصولات کا بڑا خطرہ درپیش ہے۔ دونوں کمپنیوں نے 2025 میں کینیڈا میں تیار ہونے والی تقریباً 75 فیصد سے زائد گاڑیوں کی پیداوار میں حصہ لیا، جن میں سے بڑی تعداد امریکا برآمد ہوئی۔امریکی آٹو صنعت کے نمائندوں نے کینیڈا کو زیادہ محصولات کی زد میں رکھنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی گاڑیوں کی صنعت ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہے۔
تاہم صنعت سے وابستہ بعض حلقے اب بھی پرامید ہیں کہ جنوری سے قبل امریکا اور کینیڈا کسی نئے تجارتی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔












