جسٹس رضا علی خان ماضی میں مقدمات میں بطور وکیل پیش ہونے کے باعث سماعت میں شریک نہیں ہوئے
مظفر آباد ( پاک ترک نیوز) سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں مہاجرین نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔
تفصیلات کےمطابق آزاد کشمیر میں مہاجر نشستوں کا صدارتی ریفرنس ،سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
چیف جسٹس راجہ سعید اکرم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔جسٹس رضا علی خان ماضی میں مقدمات میں بطور وکیل پیش ہونے کے باعث سماعت میں شریک نہیں ہوئے
عدالت نے صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے آئینی سوالات پر عدالتی معاونین اور فریقین کے تفصیلی دلائل سنے، سینئر قانون دان راجا سجاد احمد خان نے کہا آرٹیکل 33 کے تحت اسمبلی کوقانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔وفاقی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کا حوالہ بھی عدالت کےسامنے پیش کیا گیا ۔
بیرسٹر ہمایوں نواز، راجا صداقت حسین اورسردارعبدالرازق نے بھی قانونی نکات پر دلائل دیئے ،سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان اور رکن اسمبلی عبدالماجد خان عدالت میں موجود رہے ۔
عدالت نےاس سوال کا جائزہ لیا کہ آیا 12 مہاجرین نشستیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم یا تبدیل کی جا سکتی ہیں،موجودہ قانون ساز اسمبلی کے آئینی ترمیم کے اختیار اور حدود پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔
انتخابات روکنے یا آئینی ترمیم کےلیے دباؤ ڈالنے کی قانونی حیثیت پر عدالت نے رائے طلب کی۔صدر سپریم کورٹ بار راجہ افتاب، اور صدر ہائی کورٹ بار راجہ جہانگیر اسلم بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
سابق ایڈیشنل سیکرٹری فرحت علی میر، خواجہ منظور قادر اور ایم تنویر چوہدری ایڈووکیٹ نے بھی اپنے مؤقف عدالت کے سامنے رکھے۔
مہاجرین مقیم آزاد کشمیر 1989 کے نمائندوں نے اسمبلی میں اپنی علیحدہ نشست مختص کرنے کا مطالبہ کر دیا،سپریم کورٹ کے ڈویژن بینچ نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 24نشستیں ،396امیدوار ،گلگت بلتستان میں اقتدار کی جنگ












