اسلام آباد(پاک ترک نیوز )ایوانِ صدر میں آج رات وفاقی بجٹ کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومتی اتحاد کے درمیان اہم مشاورتی اجلاس صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ہو گا
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بجٹ سے متعلق پیپلز پارٹی کے تحفظات اور حکومتی معاشی پالیسیوں پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلز پارٹی کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری ،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، شیری رحمان ،راجا پرویز اشرف ،نوید قمر شریک ہوں گے
حکومت کی طرف سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ،وزیر خزانہ محمداورنگزیب ، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق شرکت کریں گے
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی بجٹ سے متعلق اپنے تحفظات حکومت کے سامنے رکھے گی۔
پیپلز پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ نئے بلز کی مخالفت نہیں کر رہی، تاہم موجودہ ٹیکس پالیسیوں پر اسے شدید اعتراضات ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ ایک ہی شعبوں پر بار بار ٹیکس عائد کرنا کاروباری سرگرمیوں اور عوام دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس میں بجٹ تجاویز، ٹیکس اصلاحات اور اتحادی جماعتوں کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان گزشتہ کئی روز سے بجٹ مذاکرات جاری ہیں، جن میں ٹیکس پالیسیوں، ترقیاتی فنڈز اور وفاقی اخراجات سے متعلق معاملات زیرِ بحث رہے
تاہم بعض اہم نکات پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث آج کی ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی پی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے
اس سے پہلے حکومت نے 10 جون کو بجٹ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا پی پی سے مذاکرات کا نتیجہ چاہیے جو بھی ہو۔
مذاکرات میں شریک ایک رکن کا موقف ہے کہ ہر سال بجٹ سے پہلے ترقیاتی منصوبوں، ٹیكسیشن اور دوسرے اقدامات پر ایسی میٹنگ ہوتی ہیں
جبکہ دوسرے رکن کا موقف ہے کہ یہ ابتدائی میٹنگ ہیں اس لیے نہ كامیابی ہوئی نہ ناكامی۔












