اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سپریم کورٹ نے خواتین کو وراثتی حقوق سے محروم کرنے کے خلاف تاریخی فیصلہ دے دیا، جسٹس شاہد بلال حسن نے 71 سال بعد بہنوں اور والدہ کو جائیداد سے محروم کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے ، خواتین کو وراثتی جائیداد میں سے حصہ دینے کا حکم دے دیا۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے قرار دیا وراثت مردوں کی مہربانی نہیں بلکہ شرعی و قانونی حق ہے، خواتین کو محروم کرنے کے لئے جعلی ہبہ، فراڈ اور خاندانی دباؤ ہرگز قبول نہیں، 1955ء میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی اور زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے نور محمد کی اپیل پر 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، عدالت نے واضح کیا کہ وراثت خاندان کے مرد افراد کی مہربانی یا صوابدید نہیں بلکہ ہر وارث کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی خود بخود منتقل ہو جاتا ہے۔
فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کیلئے جعلی ہبہ، جعلی انتقال، فراڈ، خاندانی دباؤ یا رسم و رواج کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا، عدالتوں پر لازم ہے کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی ہر ٹرانزیکشن اور معاہدے کا انتہائی احتیاط سے جائزہ لیں تاکہ کسی بھی خاتون کے بنیادی حق کو سلب نہ ہونے دیا جائے۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے فیصلے میں لکھا کہ خواتین کے وراثتی حصے علامتی یا اختیاری نہیں بلکہ لازمی حقوق ہیں، خواتین کو خاندانی عزت، روایت یا سماجی دباؤ کے نام پر وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ایم-13 موٹروے منصوبہ، لاہور سے اسلام آباد کا سفر ایک گھنٹہ کم
فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست، عدالتیں اور ریونیو حکام خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، جبکہ خواتین کو صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کا حق ملنا چاہیے، عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانون کا جھکاؤ خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ ان کے خاتمے کی طرف۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ 1955ء میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی اور زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کر دیا۔
سپریم کورٹ نے تاخیر سے دعویٰ دائر کرنے کی بنیاد بھی مسترد کرتے ہوئے درخواست گزاروں کی اپیل منظور کر لی اور تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔












