کابل ( پاک ترک نیوز) افغانستان کے صوبہ ہرات میں تاپی گیس منصوبہ شہر کے قریب پہنچنے کے ساتھ ہی قدرتی گیس کو گھروں اور صنعتی مراکز تک پہنچانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق ہرات شہر میں گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے بیالیس کروڈ ڈالر کا منصوبہ جلد شروع کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے 3 ہزار براہِ راست جبکہ 70 ہزار سے زائد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔
ہرات کے رہائشی فرہاد محمدی نے کہا کہ تاپی گیس کی افغانستان آمد خاص طور پر ہرات کے عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے اور اس سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ایک اور شہری محمد حیدری نے امید ظاہر کی کہ منصوبہ ہرات سے شروع ہونے کے بعد ملک کے دیگر صوبوں تک بھی توسیع پائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں
یہ بھی پڑھیں: ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے سے متعلق ٹرمپ کی درخواست مسترد
مقامی حکام کے مطابق ہرات صوبے میں اب تک 110 کلومیٹر سے زائد تاپی گیس پائپ لائن بچھائی جا چکی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گھروں اور صنعتوں کو قدرتی گیس کی فراہمی افغانستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق قدرتی گیس کی دستیابی سے گھریلو توانائی کے اخراجات کم ہوں گے، عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
ماہرین نے یہ بھی کہا کہ ہرات میں قدرتی گیس کی فراہمی سے فضائی آلودگی میں نمایاں کمی آئے گی، کیونکہ گھروں، عوامی حماموں، تنوروں اور صنعتی کارخانوں میں کوئلے اور دیگر فوسل فیول کے بجائے قدرتی گیس استعمال کی جا سکے گی۔
تاپی گیس پائپ لائن کی مجموعی لمبائی 1,800 کلومیٹر سے زائد ہے، جس میں سے 820 کلومیٹر سے زیادہ حصہ افغانستان سے گزرتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کو منصوبے کے تین مراحل میں 50 کروڑ سے ڈیڑھ ارب مکعب میٹر قدرتی گیس فراہم کی جائے گی، جبکہ پاکستان اور بھارت تک گیس کی ترسیل کے عوض افغانستان کو سالانہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر ٹرانزٹ فیس کی مد میں آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے۔












