گلگت بلتستان میں تین سو چھیانوے امیدواروں میں مقابلہ ہو گا، دو سو چھیاسٹھ آزاد امیدوار اور آٹھ خواتین بھی انتخابی دنگل میں شریک ہیں ۔
گلگت ( پاک ترک نیوز) گلگت بلتستان میں کون بنائے گا حکومت ،فیصلے میں ایک روز باقی ہے ، ، چوبیس نشستوں پر پولنگ کل ہو گی،انتخابی مہم کا وقت رات بارہ بجے ختم ہونےکےبعد انتخابی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی۔
گلگت بلتستان میں تین سو چھیانوے امیدواروں میں مقابلہ ہو گا، دو سو چھیاسٹھ آزاد امیدوار اور آٹھ خواتین بھی انتخابی دنگل میں شریک ہیں ۔
الیکشن میں پیپلزپارٹی نے تیئس ، ن لیگ نے بائیس امیدوار میدان میں اتارے،استحکام پاکستان پارٹی کےپندرہ،پاکستان مسلم لیگ کے گیارہ امیدوار ، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے چھ،چھ امیدوار میدان میں موجود ہیں ۔
گلگت بلتسان میں ووٹروں کی تعداد نولاکھ 58ہزار چار سو اسی ،پولنگ اسٹیشنوں پر عملے اور انتخابی سامان کی ترسیل جاری ہے ، تمام حلقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار صورتحال روایتی نہیں رہی۔ اصل جنگ صرف پارٹیوں کے درمیان نہیں بلکہ آزاد امیدواروں کی طاقت ،انتخابی اتحادوں کی سیاست اور آخری لمحے کی سیاسی سودے بازی فیصلہ کرے گی کہ کس کی حکمرانی ہو گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار ووٹ کا فرق انتہائی معمولی ہوگا، اور کئی نشستیں چند سو ووٹوں سے بھی فیصلہ ہو سکتی ہیں۔سیاسی ماہرین کے مطابق کوئی بھی جماعت واضح اکثریت کے قریب نہیں ،آزاد امیدوار گیم چینجر ہوں گے ۔
اب سوال صرف ایک ہےکیا مضبوط جماعتیں حکومت بنائیں گی یا آزاد امیدوار پورا کھیل بدل دیں گے؟ جواب کل بیلٹ بکس کھلتے ہی سامنے آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں انتخابی مہم ختم، پولنگ کل ہوگی












