اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان کے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) شعبے نے مالی سال 2025-26 کے دوران ترقی کی رفتار برقرار رکھی۔ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق آئی سی ٹی برآمدات سے حاصل ہونے والی ترسیلات میں سالانہ بنیادوں پر 19.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ شعبے نے 2.91 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل کیا۔
پے اونیر کے مطابق اس عرصے کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔بیان کے مطابق پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں، ڈیجیٹل ایجنسیاں، ای کامرس کاروبار اور سافٹ ویئر برآمد کرنے والے ادارے عالمی مارکیٹ میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے قابلِ اعتماد نظام کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔
پے اونیر کا کہنا ہے کہ پاکستانی کاروباری ادارے بڑی عالمی کرنسیوں میں ادائیگیاں وصول کرنے، رقم کا انتظام کرنے اور بیرونِ ملک سپلائرز و کنٹریکٹرز کو ادائیگیاں کرنے کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔ مقامی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ انضمام کے ذریعے بیرونِ ملک سے حاصل ہونے والی آمدن کو پاکستانی بینکاری نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے۔پے اونیر ایشیا پیسیفک کے سربراہ ناگیش دیوتا نے کہا کہ پاکستانی کاروباری اداروں میں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت، جذبہ اور ہنر موجود ہے، تاہم بین الاقوامی ترقی کے لیے ایسا مالیاتی نظام بھی ضروری ہے جو کاروباری ضروریات کے مطابق تیزی سے کام کرے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی آئی ٹی کمپنی ڈی پی ایل دنیا کی 25 پسندیدہ ترین کمپنیوں میں شامل
انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے بین الاقوامی ادائیگیاں وصول کرنے اور استعمال کرنے کا عمل آسان بنانے سے عالمی فروخت کو کاروباری سرمایہ میں تبدیل کرنے اور طویل مدتی ترقی میں مدد مل سکتی ہے۔












