پیٹرن انچیف یونائیٹڈ بزنس گروپ ایس ایم تنویرکا کا کہناہے ملک میں ہر طرف مس مینجمنٹ کا راج ہے ،،رواں سال برآمدات کی مد میں 7 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑےگا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں ایس ایم تنویر نے کہا حکومت کا سالانہ 10 فیصد اضافے کا ہدف محض کاغذوں تک محدود رہ گیا ۔بجلی کے ناقص نظام اور حکومتی بد انتظامی کے باعث ملکی صنعتیں بند ہو رہی ہیں ۔
انڈسٹری کو اب 4 گھنٹے روزانہ لوڈشیڈنگ کا کہہ کر مزید دباؤ میں لایا جا رہا ہے،انڈسٹری 24 گھنٹے چلے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔ ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہے تو صنعتوں کو مسلسل بجلی دینا ہو گی، لوگ کہتے ہیں پیسہ پاکستان سے باہر جارہا ہے۔ اتنے زیادہ ٹیکسز ہوں گے تو جہاں نفع ہوگا پیسہ وہاں چلا جائے گا ۔
آپ پاکستان میں نفع دیں پیسہ خود واپس آجائے گا ۔،ایران امریکا جنگ بندی کرانے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کوامن کا نوبل انعام ملنا چاہیئے۔












