اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں اپریل کے دوران سالانہ بنیادوں پر 21.27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو عالمی طلب میں بحالی کا اشارہ ہے۔ کئی ماہ کی اتار چڑھاؤ کے بعد یہ ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
یہ حوصلہ افزا اضافہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اکتوبر 2025 سے ٹیکسٹائل برآمدات زیادہ تر منفی رجحان کا شکار رہی تھیں ، ادارہ شماریات کے مطابق مارچ میں برآمدات میں 7.06 فیصد، فروری میں 7.22 فیصد، دسمبر میں 8.56 فیصد، نومبر میں 2.57 فیصد اور اکتوبر میں 0.57 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ جنوری میں 3.14 فیصد اضافہ ہوا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات بڑھ کر 1.480 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مہینے میں 1.220 ارب ڈالر تھیں۔
ادارہ شماریات کے مطابق اپریل میں ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات مالیت کے لحاظ سے 15.90 فیصد جبکہ مقدار کے لحاظ سے 23.52 فیصد بڑھیں۔ اسی طرح نٹ ویئر کی برآمدات میں مالیت کے اعتبار سے 24.33 فیصد اور مقدار میں 23.56 فیصد اضافہ ہوا۔ بیڈ ویئر کی برآمدات بھی مالیت میں 21.28 فیصد اور مقدار میں 23.59 فیصد بڑھ گئیں۔
تولیے کی برآمدات میں مالیت کے لحاظ سے 5.13 فیصد اور مقدار میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کاٹن کلاتھ کی برآمدات مالیت میں 15.40 فیصد اور مقدار میں 22.03 فیصد بڑھیں۔ اپریل میں دھاگے (یارن) کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 109.06 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔تولیے کے علاوہ دیگر تیار شدہ اشیا کی برآمدات میں 15.24 فیصد اضافہ ہوا، تاہم خیموں، کینوس اور ترپال کی برآمدات میں مالی سال 2026 کے اپریل میں 51.33 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب مصنوعی فائبر کی درآمدات میں 1.55 فیصد کمی آئی، جبکہ مصنوعی اور آرٹیفیشل سلک یارن کی درآمدات 0.75 فیصد کم ہوئیں۔ خام کپاس کی درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 61.33 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ استعمال شدہ کپڑوں کی درآمدات میں 0.25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان کا تیل درآمدی بل اپریل میں 67.63 فیصد بڑھ کر 2.271 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی مہینے میں 1.354 ارب ڈالر تھا۔ یہ اضافہ خاص طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی مقدار میں اضافے کے باعث ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی مالیت میں 96.87 فیصد جبکہ مقدار میں 24.08 فیصد اضافہ ہوا۔اسی طرح خام تیل کی درآمدات کی مالیت میں 119.99 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مقدار میں صرف 1.38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث درآمدی لاگت بڑھی۔












