
از : سہیل شہریار
امریکی دفاعی کمپنی ریتھیون کو امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ خریداروں کی فہرست میں ترمیم کے بعد اب بظاہر یہ کمپنی پاکستان کو بھی جدید درمیانے فاصلے کے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (ایمرا) فروخت کر سکے گی۔
امریکی وزارتِ جنگ (جو پہلے وزارتِ دفاع کہلائی جاتی تھی) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس ترمیم کے بعد معاہدے کے تحت پاکستان سمیت 30 سے زائد ممالک کی افواج کو عسکری سامان فروخت کیا جائے گا۔خیال رہے کہ یہ میزائل پاکستان کے پاس موجود امریکی ساختہ ایف 16 فیلکن میں نصب کیے جاتے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان نے جنوری 2007 میں ریتھیون گروپ سے 28 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کے 700 فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ جو اس وقت ان میزائیلوں کی بین الاقوامی خریداری کا سب سے بڑا معاہدہ تھا۔ جبکہ یہ 2016کے بعد پاکستان کے لیے امریکی اسلحہ کی پہلی بڑی خریداری ہوگی۔ 2010 میں ایک ارب ڈالر کے امریکی اسلحہ کی درآمدات 2018 میںمحض 21 ملین ڈالر تک گر گئی تھیں۔ مگر اس مرتبہ پاکستان ایمرا میزائلوں کے ہمراہ اپنے ایف ۔16لڑاکا طیاروںکے فلیٹ کے لئے جدید کاری کٹس کے حصول کا بھی خواں ہے ۔
https://www.youtube.com/watch?v=qc4Z6Sa4R6w&t=4s
پاکستان اور امریکہ کے مابین سفارتی، تجارتی اور دفاعی تعلقات میں آنے والی گرمجوشی نے بھارت کی سیاسی و دفاعی حلقوں میں سراسیمگی پھیلادی ہے ۔اور امریکی حکومت کی جانب سے ریتھیون گروپ کو پاکستان کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل ایمرا کی فروخت کرنے کی اجازت دینے کے بعدیہاں تک کہہ دیا گیا ہے کہ امریکہ اب انڈیا کا دشمن بننے کے قریب ہے۔ وہ صرف یہ میزائل پاکستان کو نہیں بیچ رہا بلکہ سعودی عرب کو بھی فروخت کر رہا ہے۔جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب کسی بھی لڑائی میں یہ میزائل پاکستان کو دےسکتا ہے۔
امریکی فضائیہ کی جاری کردہ معلومات کے مطابق ایمرا اے آئی ایم-120 جدید درمیانے فاصلے کے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل ہیں جو ہر موسم میں نظر کی حد سے دور اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل امریکی افواج کے علاوہ امریکہ کے اتحادیوں کے لیے بنایا جاتا ہے۔ریتھیون گروپ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ میزائل پاکستان سمیت 40 ممالک خرید چکے ہیں اور انھیں ایف-15، ایف-16 فیلکن، ایف-18 ہورنیٹ اور جدید ایف-35 سمیت متعدد لڑاکا طیاروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔جبکہ کمپنی کے مطابق 120-D3 میزائل 180 کلومیٹر کی دوری تک مار کر سکتے ہیں اور انھیں چینی پی ایل 15 میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
https://www.youtube.com/shorts/xoa8hMmCkcM
پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے جولائی کے پہلے ہفتے میں دورہ امریکہ کے بعدسے پاکستان کی جانب سے ایمرا میزائلوں کی خریداری کی سامنے آنے والی خبریں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں پاکستانی فضائیہ چین کےعلاوہ امریکہ کے ساتھ بھی دفاعی تعاون میں اضافہ چاہتی ہے۔
یاد رہے کہ اس وقت پاک فضائیہ کے ایف-16 طیارے ایمرا اے آئی ایم-120 کے سی-5 ویریئنٹ سے لیس ہیں۔مگر اس میزائل کے نئے ماڈلز کی نہ صرف رینج بہتر ہے بلکہ ان کا سیکر یعنی گائیڈنس سسٹم بھی زیادہ موثر ہے۔اس کے علاوہ اس کی الیکٹرانک جیمنگ کے خلاف صلاحیت بھی بہتر ہے۔جس کے نتیجے میں پاکستان کے ایف-16 طیاروں کی فضا سے فضا میں طیاروں کو مار گرانے کی صلاحیت میں بھی کافی اضافہ ہو جائے گا۔ایمرا میزائل کے نئے ماڈلزمیں لائی جانے والی بہتری کے نتیجے میں انہیں چینی ساختہ پی ایل۔15کے ہم پلہ یا اس سے بہتر بھی قرار دیا جارہا ہے۔












