تہران (پاک ترک نیوز) ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے جاری مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کر رہا۔
پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق نئے بحری راستے پر بات چیت جاری ہے اور دونوں ممالک ایک معاہدے کے قریب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئے بحری راستے میں آنے اور جانے والے جہازوں کے لیے الگ الگ راستے اور پوائنٹس مختص کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے صرف ایران اور عمان کے درمیان اتفاقِ رائے کافی نہیں ہوگا بلکہ محفوظ جہاز رانی اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کبھی بھی جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان کسی اختلاف کی وجہ سے بند نہیں ہوئی بلکہ موجودہ صورتحال گزشتہ برس مارچ میں امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے باعث پیدا ہوئی۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کا حصہ نہیں ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی حتمی فیصلے کا انحصار خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور متعلقہ فریقوں کے اقدامات پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کےامریکہ اور ایران سے رابطے، خطے کو بڑے تصادم سے بچا لیا
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اپنے علاقائی ہمسایہ ممالک سے کوئی مسئلہ نہیں، جبکہ یمن کے معاملے کو ایران کے خلاف جنگ سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کا بحران مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی امریکی کارروائی کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق خطے میں امریکی فوجی موجودگی عدم استحکام کا باعث بنی ہے اور دشمن کو صرف ایران کی دفاعی صلاحیت ہی روک سکتی ہے۔












