لاہور( پاک ترک نیوز) کیا غزہ میں مہینوں سے جاری خونریز جنگ اپنے اختتام کے قریب پہنچ گئی؟. کیا حماس واقعی ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو گئی؟… اور کیا اسرائیلی فوج غزہ سے واپس چلی جائے گی؟… امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اعلان نے پوری دنیا کی نظریں مشرقِ وسطیٰ پر جما دی ہیں… جہاں ایک ایسا معاہدہ سامنے آیا ہے جسے خطے کی تاریخ کا اہم ترین موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا ہے کہ بورڈ آف پیس کی نگرانی میں غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق جیسے جیسے حماس اور دیگر گروہوں کو مرحلہ وار غیر مسلح کیا جائے گا، اسرائیلی افواج بھی اسی تناسب سے غزہ سے انخلا کرتی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ نہ صرف جنگ کے خاتمے بلکہ غزہ میں ایک نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب بھی اہم پیش رفت ہے۔
امریکی صدر کے مطابق نئی فلسطینی حکومت بورڈ آف پیس کے تعاون سے انتظامی امور سنبھالے گی، جبکہ ایک بین الاقوامی استحکام فورس نئی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری ادا کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں آج چہلم نواسہ رسول عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے، سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات
ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے میں اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات کو بھی مکمل طور پر مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ مستقبل میں غزہ کو کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو اپنے 20 نکاتی امن منصوبے کا اہم سنگِ میل قرار دیا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ 7 اکتوبر جیسے واقعات کو دوبارہ جنم لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غزہ کو بالآخر ایسی فلسطینی حکومت کے حوالے کیا جائے گا جو اپنے عوام کی خدمت کرے گی۔
امریکی صدر نے مصر، قطر اور ترکیہ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی ثالثی نے معاہدے کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ مذاکراتی ٹیم کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
دوسری جانب حماس نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہتھیاروں کے معاملے اور اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا پر اتفاق ہو گیا ہے۔ حماس نے زور دیا کہ ثالث ممالک اور بورڈ آف پیس اس امر کو یقینی بنائیں کہ اسرائیل بھی معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کرے۔
اگر اس معاہدے پر اس کی تمام شقوں کے مطابق عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ غزہ کے سیاسی اور سکیورٹی نظام میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار کئی اہم عوامل پر ہوگا، جن میں اسرائیل کی جانب سے مرحلہ وار انخلا، حماس کے غیر مسلح ہونے کے عملی اقدامات، بین الاقوامی نگرانی، اور نئی فلسطینی حکومت کے قیام کا طریقۂ کار شامل ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے معاہدوں کی کامیابی صرف اعلانات سے نہیں بلکہ زمینی حقائق اور تمام فریقوں کی عملی پابندی سے مشروط ہوتی ہے۔ اگر کسی بھی فریق نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو یہ پیش رفت دوبارہ کشیدگی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
غزہ میں واقعی امن کا سورج طلوع ہونے والا ہے یا یہ بھی ماضی کے کئی معاہدوں کی طرح ایک اور نامکمل وعدہ ثابت ہوگا؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں معاہدے پر ہونے والے عملی اقدامات سے سامنے آئے گا، کیونکہ پوری دنیا کی نظریں اب غزہ پر مرکوز ہیں۔












