
از : سہیل شہریار
پاکستان کی طرف سے جنگی صلاحیت کے حامل جے ایف۔ 17 تھنڈر بلاک تھریسمیلیٹرکی بنگلہ دیش کو منتقلی کو فوجی منصوبہ سازوں کی طرف سے تیزی سے ایک طاقت کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے مضمرات دو طرفہ دفاعی سفارت کاری سے بڑھ کر پورے جنوبی ایشیا میں وسیع تر تزویراتی توازن تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس پیشرفت نے بھارت میں صف ماتم برپا کر دی ہے۔جسے ابھی تک وزیر اعظم طارق رحمان کی نئی جمہوری حکومت سےباہمی تعلقات میں بہتری کی امید ہے۔ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ کوئی فوجی ادارہ ہتھیاروں کی خریداری سےپہلے ہی آپریشنل تربیتی عمل کا آغاز کردے۔ جب تک کہ متعلقہ ہتھیاروں کے حصول کی بات چیت ایسے مراحل میں نہ بڑھ جائے جس کے لیے مستقبل میں فورس کے انضمام کے لیے تیز رفتار تیاری کی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی تیاری کی ضرورت ہو۔
اس اہم پیش رفت نے اسکی اہمیت کو دو چند کر دیا ہے۔ کیونکہ اب بدلتا ہوا بنگلہ دیش۔ چین۔پاکستان دفاعی تعامل ہند۔بحرالکاہل کے سیکیورٹی امور اور خلیج بنگال اور وسیع تر جنوبی ایشیائیمنظر نامے میں ابھرتے ہوئے نئے فوجی تعاون اور تقابل کو نمایاں کرتا ہے۔
بنگلہ دیش کے فورسز گول 2030 کے تحت ملک کی مسلح افواج کی جدید کاری کے اقدام کو تیزی سے عمر رسیدہ مگ۔ 29 اور ایف۔ 7 لڑاکا طیاروں کی فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ مستقبل کی آپریشنل ضروریات تیزی سے سینسر فیوژن اور ملٹی رول لچکدار خصوصیات کا مطالبہ کرتی ہیں۔چنانچہ جے ایف۔17 بلاک تھری کو ایک مؤثر سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہےجو 4.5-جنریشن کا پلیٹ فارم ہےاور فعال الیکٹرانک طور پر اسکین شدہ ارے ریڈار فن تعمیر کو مربوط کرتا ہے۔یہ لڑاکا جہازفعال اور جدید الیکٹرونک وارفیئر سوٹ کے ساتھ مبینہ طور پر PL-15 کو بھی شامل کرتاہے جو بصری حدسے آگے میزائل کی صلاحیت کو لانگ رینج کے فضائی جنگی نظریے سے منسلک کرتا ہے۔
گذشتہ ماہ مئی 2026 کے وسط میں دورہ ڈھاکہ کے دوران بھارت کے ساتھ معرکہ حق کے دوران پاک فضائیہ کے ترجمان کی حیثیت سے شہرت پانے والے ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمدنے دونوں سروسز کے درمیان پہلی رسمی ایئر سٹاف بات چیت میں پاکستان کے وفد کی قیادت کی۔اس اجلاس میںپاک فضائیہ کے حکام نے مبینہ طور پر جے ایف۔ 17 بلاک تھری کے ملٹی رول آپریشنل پروفائل پر روشنی ڈالی جبکہ مئی 2025 میں معرکہ حق کےنتیجے میں جے ایف۔ 17 تھنڈر بلاک تھری کی فرانسیسی رافیل سے تقابلی کارکردگی سے بھی آگاہ کیا۔
اگرچہ جے ایف۔ 17 کی خرید و فروختمعاہدے کا کوئی باضابطہ اعلان تا حال نہیں کیا گیا۔اس لئے حصول کے پیمانے، ترسیل کے نظام الاوقات اور مالیاتی طریقہ کار کے حوالے سےصورتحال واضح نہیں۔ اس کے باوجود دونوں ملکوں کے موجودہ فوجی رابطےیہ بتاتے ہیں کہ منتقلی اعتماد سازی کے طریقہ کار کی نمائندگی کرتی ہے جس کا مقصد آپریشنل تاخیر کو کم کرنا ہے ۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ نے سرگودھا میں مصحف ایئر بیس اور کامرہ میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں بلترتیب بنگلہ دیش فضائیہ کے پائلٹس اور انجینئرز کے لئے جدید تربیتی پیکج کی تجویز بھی پیش کی ہے۔چین کی آشیر باد سے بنگلہ دیش اور پاکستان کے مابین دفاعی تعاون کا پروگرام بظاہر تعارفی تبادلوں سے آگے بڑھ چکا ہے۔ جس میں کم خرچ کے ساتھ بصری حد سے آگے جنگی صلاحیت کے حصول نےکلیدی کردار ادا کیا ہے۔بی وی آر یعنی بصری حد سے آگے جنگی صلاحیت کے حصول کی تربیت سٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے کیونکہ جدید فضائی جنگ بصری شناخت کے مواقع سامنے آنے سے پہلے طویل فاصلے تک مار کرنے اور میزائلوں کے استعمال کو ترجیح دیتی ہے۔
بنگلہ دیش نے2025میں آپریشن بنیان مرصوص کے بعد جے ایف۔ 17 بلاک تھری میں سنجیدگی سے دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔تب پاکستان نے دبئی ایئر شو کے دوران ایک گمنام دوست ریاست سے یادداشت طے پانے کا اعلان کیا۔اس کے بعدخبروںنے بنگلہ دیش پر توجہ مرکوز کی کیونکہ بنگلہ دیشی پائلٹوں اور تکنیکی ماہرین نے مبینہ طور پر پاکستان کے اندر تربیتی دورے شروع کر دیے تھے۔جنوری 2026 میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور بنگلہ دیش کے ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی بات چیت کے دوران ایک اور سنگ میل سامنے آیا۔جس میں جے ایف۔ 17 کی ممکنہ خریداری کے بارے میں تفصیلی غور و خوض کے ساتھ ساتھ سپر مشاق ٹرینر ہوائی جہاز کے تیز تر ترسیل کے انتظامات شامل تھے۔
اب تازہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ خریداری کی طرف مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے جس میں مجموعی طور پر 48 جے ایف۔ 17 بلاک تھری لڑاکا جہازشامل ہیں۔
پہلے سکواڈرن پیکج میں مبینہ طور پر متعلقہ ہتھیاروں، تربیتی انفراسٹرکچر اور معاون عناصر کے ساتھ سولہ طیارے شامل ہونگے۔جبکہ فوجی سازوسامان کے پیکیج کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 720ملین ڈالر ہے۔












