اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) نو ماہ میں پاکستان کا مالی خسارہ 856 ارب روپے تک پہنچ گیا،ذرائع کے مطابق جولائی تا مارچ مالی خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد کے برابر ریکارڈ کیا گیا ،پاکستان کو 9 ماہ میں 4 ہزار 91 ارب روپے کا پرائمری سرپلس حاصل ہوا،ایف بی آر نے 9 ماہ میں 9 ہزار 306 ارب روپے ٹیکس جمع کیا ، نان ٹیکس ریونیو 4 ہزار 632 ارب روپے تک پہنچ گیا،اسٹیٹ بینک نے حکومت کو 2 ہزار 428 ارب روپے منافع منتقل کیا،پیٹرولیم لیوی سے 9 ماہ میں 1205 ارب روپے وصول کیے گئے۔
صوبائی ٹیکس وصولیوں میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈکیا گیا ،حکومت کے مجموعی اخراجات 16 ہزار 99 ارب روپے تک پہنچ گئے،اندرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی 4 ہزار 947 ارب روپے رہی،بیرونی قرضوں کی ادائیگی 660 ارب روپے سے تجاوز کر گئی،سبسڈیز پر 632 ارب روپے خرچ کیے گئے،پنشن ادائیگیاں 753 ارب روپے تک پہنچ گئیں،این ایف سی کے تحت صوبوں کو 5 ہزار 631 ارب روپے منتقل کیے گئے، ذرائع کے مطابق پی ایس ڈی پی اخراجات مقررہ ہدف کے صرف 32 فیصد تک محدود رہے،دفاعی اخراجات 1689 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔












