لاہور( پاک ترک نیوز) ریونیو ریکارڈ کی غلط انٹری پر خریدی گئی پراپرٹی کے مالکانہ حقوق برقرار نہیں رکھ سکتے،لاہور ہائیکورٹ نے ریونیو میں غلط انٹری کے ذریعے مالک تبدیل کرنے کے بعد پراپرٹی کی آگے فروخت غیر قانونی قرار دے دی ،عدالت درخواست گزار کی 152 کنال پراپرٹی کے مالکانہ حق دینے کی استدعا مسترد کردی۔
جسٹس راحیل کامران نے فیصلے میں لکھا اگر بنیادی حکم غیر قانونی ہو تو اس پر کھڑی پوری عمارت گر جاتی ہے۔ریونیو افسر کسی مالک کو صرف نام کی درستگی کے بہانے جائیداد سے محروم نہیں کرسکتا،صرف کلریکل یا ٹائپنگ غلطی درست کی جاسکتی ہے، مکمل مالک تبدیل نہیں کیا جاسکتا،کسی ایک شخص کا نام ختم کرکے دوسرے شخص کا نام شامل کرنا نام کی درستگی نہیں بلکہ غیر قانونی عمل ہے، ریونیو ریکارڈ میں مالک کی تبدیلی صرف قانون کے مطابق وراثت، منتقلی یا عدالتی حکم سے ہوسکتی ہے۔
بیوہ نے شوہر کی زمین دوسرے شخص کے نام منتقل ہونے پر ریونیو بورڈ سے رجوع کیا تھا ،خاتون کے مطابق شوہر کی 2003 میں وفات کے بعد 152 کنال اراضی کسی اور کے نام منتقل کردی گئی،شہری ناصر خان نے ریونیو عملے کی ملی بھگت سے زمین اپنے نام منتقل کروائی،نام کی تبدیلی کے لیے دو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے تھے،گواہ ارشد علی بعد میں اسی زمین کا خریدار بھی بن گیا،ایڈیشنل کمشنر ریونیو نے پراپرٹی کی خریداری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا فراڈ، جعلسازی یا ملکیتی تنازع عام طور پر سول کورٹ کا معاملہ ہوتا ہے، جہاں ریونیو ریکارڈ میں واضح غیر قانونی تبدیلی ہو وہاں ریونیو حکام خود اصلاح کرسکتے ہیں،ریونیو حکام کا اختیار صرف تنازع حل کرنا نہیں بلکہ ریکارڈ کو درست کرنا بھی ہے، ہر معاملے میں فریقین کو سول کورٹ بھیجنا ضروری نہیں،جعلی اندراجات درست نہ کیے جائیں تو لینڈ ریونیو ایکٹ غیر مؤثر ہوجائے گا، عدالت نے ایڈیشنل کمشنر اور بورڈ آف ریونیو کے فیصلوں کو درست قرار دے دیا۔












