اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے وفاقی حکومت کی جانب سے دلائل دیے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریک انصاف نے 2022 اور 2024 میں اسلام آباد میں احتجاج کیا اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے مظاہرین کو ڈی چوک پہنچنے کی کال دی، جبکہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے دوران 31 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے وفاقی حکومت کو فوج طلب کرنا پڑی۔ کسی بھی سیاسی سرگرمی کے لیے حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے، تاہم 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے ابھی تک انتظامیہ کو کوئی درخواست نہیں دی گئی۔سماعت کے دوران خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد اور بلوچستان کے پولیس سربراہان، جبکہ خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرلز اور چیف سیکریٹریز بھی عدالت میں موجود تھے۔دوران سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے علاقائی دائرہ اختیار سے متعلق اہم دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد ہائیکورٹ صوبوں کو احکامات جاری کرسکتی ہے؟انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف علاقائی دائرہ اختیار کا نہیں بلکہ بنیادی حقوق کے تحفظ کا ہے۔ جب معاملہ بنیادی حقوق کے تحفظ کا ہو تو ہائیکورٹ احکامات جاری کرسکتی ہے۔
اٹارنی جنرل کے مطابق صوبائی حکومت کو احکامات جاری کرنا اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ احتجاج کے معاملے پر صوبوں میں ہونے والے واقعات بھی اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق سے منسلک ہیں۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ اس ایک نکتے پر اپنے علاقائی دائرہ اختیار میں آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے کسی کو بھی احکامات جاری کرسکتی ہے۔اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ تمام صوبوں کے پولیس سربراہان پاکستان پولیس سروس کے ملازم ہیں، جبکہ آئی جیز اور چیف سیکریٹریز وفاق کے ملازم ہیں، اس لیے عدالت انہیں احکامات جاری کرسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئی جیز اور چیف سیکریٹریز صوبے کے ملازم نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سیاسی و کور کمیٹی کا مشترکہ اجلاس، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر اظہار تشویش
اٹارنی جنرل نے ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بڑے بڑے بیانات دے رہے ہیں، ان بیانات کو محض سیاسی بیانات قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔












