لاہور( پاک ترک نیوز) قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ادارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں کرکٹرز کے موبائل فونز کا تکنیکی اور فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں مالی معاملات اور مشتبہ لین دین مرکزی توجہ کا مرکز ہیں۔ انگلینڈ سیریز سے پہلے اور بعد کے مالی معاملات بھی جانچ کا حصہ ہیں، جبکہ دونوں کھلاڑیوں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور متعلقہ عرصے میں ہونے والی تمام اہم لین دین کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر کسی مشتبہ لین دین کی نشاندہی ہوئی تو یہ بھی دیکھا جائے گا کہ رقم کہاں سے آئی اور کس کو منتقل کی گئی۔ کسی کمپنی، شخص یا ادارے کی جانب سے ہونے والی مشتبہ ادائیگیوں کی بھی چھان بین کی جائے گی۔تحقیقات کے دوران موبائل فونز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مالی معاملات سے متعلق معلومات کے ساتھ ملایا جا رہا ہے۔ پیغامات، رابطوں اور دیگر ڈیجیٹل معلومات کا بھی فرانزک تجزیہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، زرعی شعبے کے فروغ اور زرعی برآمدات بڑھانے پر غور
ذرائع کے مطابق تحقیقات کا ایک اہم پہلو انگلینڈ سیریز کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم لیکس بھی ہے۔ اس حوالے سے موبائل فونز میں موجود پیغامات اور رابطوں سمیت دیگر ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔امام الحق اور محمد رضوان گزشتہ روز قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ادارے کے لاہور دفتر میں پیش ہوئے تھے، جہاں دونوں سے ساڑھے تین گھنٹے سے زائد تفتیش کی گئی۔












