اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو منظم کرنے کے لیے قانونی فریم ورک بنانے کی درخواست پر متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے جواب طلب کرلیا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے درخواست کی سماعت کی اور وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون و انصاف، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
درخواست گزار وقاص ناصر نے وکلا محمد جلال حیدر اور یحییٰ فرید خواجہ کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے مؤثر عمر کی تصدیق کا نظام متعارف کرایا جائے۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن ہراسانی، نامناسب اور نقصان دہ مواد سمیت سوشل میڈیا کے مختلف خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری قانون سازی ضروری ہے۔وکیل نے کہا کہ بچوں کے بہترین مفاد کا تحفظ ریاست کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، اس لیے حکومت کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق مؤثر قانون سازی کرنی چاہیے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پیمرا کے پاس بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کوئی قانون موجود ہے؟ وکیل نے بتایا کہ پیمرا شکایت کی بنیاد پر کارروائی کا اختیار رکھتا ہے، تاہم بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو باقاعدہ طور پر ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی مخصوص قانون موجود نہیں۔درخواست میں حکومت سے بچوں کے ڈیجیٹل حقوق، پرائیویسی، ذہنی و جسمانی تحفظ اور آن لائن سیفٹی کے لیے جامع پالیسی بنانے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔درخواست گزار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی نابالغ صارفین کے تحفظ کے لیے مخصوص ذمہ داریاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 119 کنال پر ٹیک پارک بنانے کا فیصلہ، اربوں روپے کی آمدن متوقع
درخواست میں اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال اور جنرل کمنٹ نمبر 25 کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بچوں کے بہترین مفاد کا تحفظ محض پالیسی نہیں بلکہ ریاست کی قانونی ذمہ داری ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پنجاب اسمبلی میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے والدین کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ملک گیر پابندی کی قرارداد جمع کرائی گئی تھی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔












