لاہور( پاک ترک نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ ماضی میں کیے گئے مبینہ جرم پر بعد میں نافذ ہونے والے نئے اور سخت قانون کے تحت سزا نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر 9 لاکھ روپے ہتھیانے کے الزام میں گرفتار ملزم محمد عباس کی ضمانت منظور کرلی۔
جسٹس محمد امجد پرویز نے محمد عباس کی درخواست ضمانت پر 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان غنی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 2025 کی ایمیگریشن ترمیم ملزم کے خلاف لاگو نہیں ہوسکتی، کیونکہ مبینہ جرم 2024 میں کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق 2024 میں ہونے والے مبینہ جرم پر بعد میں نافذ ہونے والی سخت سزا کا قانون لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 12 کسی شخص کو جرم کے وقت مقرر سزا سے زیادہ یا مختلف نوعیت کی سزا دیے جانے سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں بھی ماضی میں کیے گئے جرم پر بعد میں نافذ ہونے والی زیادہ سخت سزا کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔عدالت کے مطابق ایف آئی اے نے محمد عباس کے خلاف عمان میں ملازمت دلوانے کا جھانسہ دے کر 9 لاکھ روپے ہتھیانے کے الزام میں 2025 میں مقدمہ درج کیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی آر تقریباً ایک سال کی تاخیر سے درج کی گئی، جبکہ مقدمے میں مبینہ رقم کی ادائیگی کی تاریخ، وقت اور جگہ کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھی نے مدعیہ سے رقم نقد اور بینک ٹرانزیکشن کے ذریعے وصول کی، تاہم مدعیہ کو نہ بیرون ملک بھیجا گیا اور نہ ہی وصول کی گئی رقم واپس کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا گھریلو بجلی کنکشن منقطع کرنے کے خلاف اہم فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ مزید تحقیقات کے دائرے میں آتا ہے، اس لیے اسے مزید جیل میں رکھنا ٹرائل سے پہلے سزا دینے کے مترادف ہوگا۔عدالت نے محمد عباس کو دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔












