اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد میں محمد ادریس کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پاور کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے پاور سیکٹر میں موجود نقائص، لوڈشیڈنگ، بجلی چوری اور نظام کی بہتری کے لیے درکار سرمایہ کاری پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔وفاقی وزیر توانائی نے اعتراف کیا کہ ملک کے ساڑھے چودہ ہزار فیڈرز میں سے ساڑھے تین ہزار فیڈرز پر لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، جس کی بڑی وجوہات بجلی چوری اور لائن لاسز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز اور ان کا عملہ ملک کے اکثر لوڈشیڈنگ والے فیڈرز کی خرابی کی وجہ ہے۔
اویس لغاری نے انکشاف کیا کہ ڈیمانڈ نوٹس میں ملی بھگت سے بجلی کا لوڈ کم ظاہر کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں نظام پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لائن مین اور ایس ڈی او کو رشوت دے کر لوڈ کم لکھوایا جاتا ہے، جس سے بجلی کا نظام متاثر ہورہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈسکوز کا بجلی کا نظام اوور لوڈ ہوچکا ہے، اسے درست کرنے کے لیے ہر حلقے میں ساٹھ کروڑ سے ایک ارب روپے تک سرمایہ کاری درکار ہے۔ مجموعی طور پر نظام کی بہتری کے لیے تقریباً دو سو ارب روپے درکار ہوں گے، جو صارفین سے پچیس برس میں وصول کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس رقم سے صارفین پر زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا بلکہ بجلی کا نظام بہتر اور مضبوط ہوگا۔ ڈسکوز نے اب تک بجلی کے نظام پر مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ڈسکوز کی بہتری کے لیے منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل حل کرنے کے لیے جامع سرمایہ کاری کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حج پورٹل کے ذریعے 11 ہزار 600 نجی عازمین کی بکنگ مکمل
اویس لغاری نے بتایا کہ آئندہ بجلی بندش کا طریقہ کار بھی تبدیل کیا جائے گا۔ ایک سال بعد پورے فیڈر سے بجلی بند کرنے کے بجائے لوڈشیڈنگ کو ٹرانسفارمر کی سطح پر منتقل کیا جائے گا، تاکہ پورے فیڈر کے صارفین کو بجلی کی بندش کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ پیک اوقات میں گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کو نہیں چلایا جارہا، کیونکہ مہنگے ایندھن کے باعث بجلی کی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ گیس کا جو کارگو تین کروڑ ڈالر میں ملتا تھا، اب اس کی قیمت ساڑھے نو کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیک اوقات میں لوڈشیڈنگ ایندھن کی لاگت بچانے کے لیے کی گئی۔
سبسڈی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ساڑھے تین کروڑ صارفین میں سے دو کروڑ پندرہ لاکھ صارفین کو سستی بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ ستر لاکھ افراد کا ڈیٹا سبسڈی حاصل کرنے والوں کے طور پر موصول ہوا، تاہم ان میں صرف چالیس فیصد افراد کم آمدنی والے ہیں، جبکہ باقی ساٹھ فیصد افراد سبسڈی کے حق دار نہیں۔اویس لغاری نے کہا کہ حکومت سالانہ پانچ سو ارب روپے کی بجلی سبسڈی فراہم کرتی ہے۔ دو سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والا صارف بالواسطہ طور پر کراس سبسڈی ادا کررہا ہے، جبکہ دو سو یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارف پر فی یونٹ تقریباً دس روپے اضافی بوجھ پڑتا ہے، جس کی مجموعی مالیت سالانہ ایک سو اسی ارب روپے بنتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ ریلیف ان صارفین کو دیا جائے گا جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اہل ہوں گے۔









