برسلز ( پاک ترک نیوز) یورپی یونین نے شینگن زون کی سرحدی نگرانی مزید مؤثر بنانے کے لیے انٹری/ایگزٹ سسٹم کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا ۔ اب سوئیڈن، فن لینڈ، اسپین اور کروشیا میں داخل ہونے والے غیر یورپی مسافروں کو بایومیٹرک رجسٹریشن کے عمل سے گزرنا ہوگا۔
نئے نظام کے تحت پاسپورٹ پر روایتی مہر لگانے کے بجائے مسافروں کے فنگر پرنٹس، چہرے کی تصویر اور پاسپورٹ کی معلومات ڈیجیٹل طور پر محفوظ کی جائیں گی، جبکہ داخلے اور روانگی کا ریکارڈ خودکار انداز میں رکھا جائے گا۔
یورپی حکام کے مطابق یہ نظام 10 اپریل 2026 سے مکمل طور پر فعال ہے اور اس کا مقصد غیر قانونی قیام کی نشاندہی، شناختی فراڈ کی روک تھام، سرحدی سکیورٹی کو بہتر بنانا اور رکن ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ آسان بنانا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں امیگریشن پر انتظار کا وقت بڑھ سکتا ہے، کیونکہ پہلی بار آنے والے مسافروں کے فنگر پرنٹس اور چہرے کا اسکین لازمی ہوگا۔ اس لیے مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل ویزا اور سفری دستاویزات کی تصدیق کریں، اضافی وقت رکھ کر ایئرپورٹ یا سرحدی چوکی پہنچیں اور بایومیٹرک تصدیق کے لیے تیار رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کے بعد نئی کمپنی کی ری برانڈنگ کی تیاری، پی ٹی اے سے اجازت طلب
یورپی یونین کے مطابق یہ نیا نظام مستقبل میں یورپی ٹریول انفارمیشن اینڈ آتھرائزیشن سسٹم کے نفاذ کی بھی بنیاد فراہم کرے گا، جس کے تحت ویزا سے مستثنیٰ مسافروں کے لیے بھی پیشگی سفری اجازت لازمی ہوگی۔












