تہران (پاک ترک نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان پھر لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس صرف دو راستے ہیں، یا معاہدہ کرے یا پھر امریکا فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔ دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دھمکی کی زبان میں بات کی گئی تو جواب بھی اسی انداز میں دیا جائے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کو دو ٹوک پیغام دے دیا۔ کہتے ہیں ایران کے پاس صرف دو راستے ہیں، یا معاہدہ کرے یا پھر امریکا فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا اپنا کام کرے گا، جو ان کے بقول مشکل نہیں، بلکہ ایک گھنٹے میں ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے پل، بجلی کا نظام اور جدید پاور پلانٹس کو مختصر وقت میں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم وہ فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگ کے دوران امریکی افواج نے ایران کے بحری جہاز، فضائیہ کے طیارے اور ریڈار نظام تباہ کر دیے تھے، جبکہ سخت بحری ناکہ بندی کے باعث تقریباً دو ماہ تک کوئی جہاز ایران تک نہیں پہنچ سکا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اپنی فضائی حدود کا مؤثر دفاع کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے، اسی لیے وہ مذاکرات پر آمادہ ہوا، جبکہ امریکا بھی ممکنہ معاہدے کے پیش نظر تحمل کا مظاہرہ کرتا رہا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے تقریباً نو کروڑ دس لاکھ عوام کو مشکلات میں نہیں دیکھنا چاہتے، اسی لیے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: دھمکیاں جاری رہیں تو امریکا کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں ،عباس عراقچی
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران معاشی طور پر پہلے سے کمزور ہو چکا ہے اور اس کے پاس ماضی جیسی مالی طاقت نہیں رہی، اس لیے وہ بھی جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے گا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دھمکیوں کا سخت جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ دباؤ کی سیاست قبول نہیں کی جائے گی۔امریکی صدر ایرانی عوام سے احترام کے ساتھ بات کریں، ورنہ ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ امریکی صدر اس سے پہلے بھی ایران کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، لیکن ان دھمکیوں کا نتیجہ امریکا کے لیے ناکامی، مایوسی اور بالآخر مذاکرات اور جنگ بندی کی درخواست کی صورت میں سامنے آیا۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اگر امریکا نے جارحانہ زبان استعمال کی تو تہران بھی اسی انداز میں جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان سخت بیانات نے ایک بار پھر دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن سفارتی حل کی بات کر رہا ہے، لیکن ساتھ ہی فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دے رہا ہے، جبکہ تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ کی سیاست قبول نہیں کرے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ لفظی جنگ مذاکرات کی میز تک پہنچتی ہے یا خطے میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیتی ہے۔












