لندن(پاک ترک نیوز ) برطانیہ میں استحصالی اور غیر انسانی حالات میں کام کرنے والے غیر ملکی ورکرز کے لیے حکومت نے بڑی سہولت کا اعلان کردیا۔
ہوم آفس کے مطابق ایسے اسکلڈ ورکرز جنہیں باضابطہ طور پر جدید غلامی کا شکار قرار دیا جائے گا، وہ اپنے موجودہ اسپانسر کو چھوڑ کر اپنے ویزا کی باقی مدت کے دوران کسی بھی دوسرے آجر کے لیے کام کرسکیں گے۔
برطانیہ میں 2021 میں متعارف کرائے گئے اس نظام کے تحت اسکلڈ ورکرز کا امیگریشن اسٹیٹس ایک مخصوص اسپانسر یا آجر سے منسلک تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ ملازمت ختم ہونے کی صورت میں ورکر کو نیا اسپانسر تلاش کرنا پڑتا، بصورت دیگر اسے برطانیہ چھوڑنے کا خطرہ ہوتا تھا۔
مہم چلانے والی تنظیموں کا کہنا تھا کہ بعض غیر ذمہ دار آجر اسی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر غیر ملکی ورکرز کو کم اجرت دینے، طویل اوقات تک کام لینے اور غیر یقینی ملازمتوں پر مجبور کرنے کے لیے ان کے امیگریشن اسٹیٹس کو استعمال کرتے تھے۔
نئے فیصلے کے تحت اگر کسی ورکر کو نیشنل ریفرل میکانزم کے ذریعے جدید غلامی کا باقاعدہ شکار قرار دیا جاتا ہے تو اس کا ویزا کسی ایک اسپانسر سے منسلک نہیں رہے گا۔اس کے بعد متاثرہ شخص اپنے ویزا کی باقی مدت کے دوران کسی دوسرے آجر کے ساتھ کام کرسکے گا۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے بالخصوص کیئر ورکرز، شیفس، ہوٹل اور ہاسپیٹیلٹی اسٹاف سمیت ان افراد کو فائدہ ہوگا جو بہتر مستقبل کی امید میں برطانیہ آئے، لیکن بعد میں انہیں استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔
برطانوی وزیر برائے امیگریشن اینڈ سٹیزن شپ جو وائٹ کا کہنا ہے کہ کسی بھی جدید غلامی کے شکار فرد کو اس کے امیگریشن اسٹیٹس کی وجہ سے استحصالی آجر کے ساتھ کام کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
حکومت کے مطابق جو اسپانسر ورکرز کے استحصال میں ملوث پائے جائیں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور مجرمانہ سرگرمی کے شواہد ملنے پر معاملہ پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال برطانیہ میں ایک لاکھ 11 ہزار اسکلڈ ورکر ویزے جاری کیے گئے، جو دسمبر 2023 کو ختم ہونے والے سال کے عروج کے مقابلے میں 76 فیصد کم ہیں۔












