واشنگٹن(پاک ترک نیوز ) امریکی محکمہ خارجہ نے غیر تارکینِ وطن ویزوں کے لیے ویزا بانڈ پروگرام کو مستقل بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت تقریباً 50 ممالک کے شہریوں کو امریکا کا ویزا حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 20 ہزار ڈالر تک کا بانڈ جمع کرانا پڑ سکتا ہے۔
وفاقی رجسٹر میں شائع ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پروگرام بی-1 (کاروباری) اور بی-2 (سیاحتی) ویزوں پر لاگو ہوگا۔ قونصلر افسران کو اختیار ہوگا کہ وہ درخواست گزار سے ویزا جاری کرنے کی شرط کے طور پر زیادہ سے زیادہ 20 ہزار ڈالر تک کا بانڈ طلب کریں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 2025 میں شروع کیے گئے آزمائشی ویزا بانڈ پروگرام کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ یہ نظام ویزا کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانے اور مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کے لیے مؤثر ثابت ہوا۔
پائلٹ پروگرام کے دوران 5 ہزار، 10 ہزار اور 15 ہزار ڈالر تک کے بانڈ کی شرط رکھی جا سکتی تھی، تاہم نئے ضابطے کے تحت 5 ہزار ڈالر کا آپشن ختم کر دیا گیا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ بانڈ کی حد بڑھا کر 20 ہزار ڈالر کر دی گئی ہے۔
نیا قانون 3 اگست سے نافذ العمل ہوگا۔ اس پروگرام کا اطلاق جن 50 ممالک کے شہریوں پر ہوگا، ان میں 30 افریقی ممالک شامل ہیں، جبکہ دیگر ممالک میں بنگلہ دیش، بھوٹان، کمبوڈیا، کیوبا، جارجیا، کرغزستان، منگولیا، نیپال، نکاراگوا، پاپوا نیو گنی، تاجکستان، ترکمانستان، وینزویلا سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر امریکا میں قیام کرنے کے رجحان کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب امیگریشن اور انسانی حقوق کے حامی حلقوں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جائز مسافروں کے لیے امریکا کا سفر مزید مشکل اور مہنگا ہو جائے گا۔
حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں سے قانونی امیگریشن بھی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ان اقدامات کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتی ہے











