واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی حکومت نے ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کو بجلی فراہم کرنے کے لیے بند جوہری پاور پلانٹ کی بحالی کے منصوبے کو بڑا مالی سہارا دے دیا۔امریکی محکمہ توانائی نے آئیووا میں واقع ڈوئن آرنلڈ انرجی سینٹر کے مالک نیکسٹ ایرا انرجی کو پلانٹ کی بحالی کے لیے 1.9 ارب ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
پلانٹ 2020 میں شدید بارش اور طوفانی موسم کے باعث متاثر ہونے کے بعد بند کردیا گیا تھا، جبکہ اس وقت سستی قدرتی گیس کی دستیابی کے باعث جوہری پلانٹ کو دوبارہ چلانا معاشی طور پر پرکشش نہیں سمجھا گیا۔تاہم مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر نے بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کردیا ہے، جس کے باعث بند جوہری پلانٹس دوبارہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔گوگل نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ وہ آئیووا کے اس جوہری پلانٹ کو دوبارہ فعال کرنے کے منصوبے میں شامل ہوگا۔ پلانٹ کو 2029 میں دوبارہ بجلی پیدا کرنے کے لیے تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
نیکسٹ ایرا انرجی کے مطابق پلانٹ کی تقریباً 50 میگاواٹ بجلی مقامی پاور کوآپریٹو کے لیے مختص کی جائے گی۔رپورٹس کے مطابق گوگل اس جوہری پلانٹ کے قریب چھ تک ڈیٹا سینٹرز تعمیر کرنے پر بھی غور کر رہا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کے لیے بڑے کمپیوٹنگ سسٹمز چلائے جائیں گے۔امریکی حکومت کی جانب سے جوہری توانائی کے بحالی منصوبوں کے لیے یہ دوسرا بڑا قرض ہے۔ اس سے قبل تھری مائل آئی لینڈ کے جوہری ری ایکٹر کی بحالی کے لیے کانسٹیلیشن انرجی کو ایک ارب ڈالر کا قرض دیا گیا تھا، جبکہ مائیکروسافٹ نے بھی اس پلانٹ سے بجلی حاصل کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا کا نیا جوہری اتحاد، ایشیا میں نیوکلیئر توانائی کا نیا دور
دوسری جانب ریاست الینوائے میں بھی جوہری بجلی گھر بند ہونے سے بچ گیا، جہاں میٹا نے کلینٹن کلین انرجی سینٹر کی پیدا کردہ صاف توانائی کے ماحولیاتی سرٹیفکیٹس خریدنے کا معاہدہ کیا۔











