ریاض ( پاک ترک نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد کے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا اور سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ فعال ہوسکتا ہے۔ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ معاہدے کے حوالے سے کسی ابہام کی گنجائش نہیں، پاکستان اس معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کی پاسداری کرے گا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ یمن سے سعودی عرب کی جانب تنازع پھیلانے یا بلااشتعال جارحیت کی صورت میں معاہدے کی شقیں حرکت میں آسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے جارحانہ معاہدہ نہیں بلکہ اجتماعی دفاع کا معاہدہ ہے۔ اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک پر جارحیت ہوئی تو دیگر دونوں ممالک اس کے دفاع کے لیے کردار ادا کریں گے۔خواجہ آصف نے امید ظاہر کی کہ خطے میں کشیدگی کم ہوگی اور امن کا راستہ نکلے گا۔ انہوں نے حوثیوں کو خبردار کیا کہ اگر یمن کے اندرونی تنازع کو دوسرے ممالک تک پھیلانے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کے بحال ہونے والے نیوکلیئر پاور پلانٹ کوحکومت کا مالی سہارا
انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی سعودی عرب کی حمایت کرچکا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔وزیر دفاع کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ صرف جنگ کا راستہ نہیں بلکہ دفاعی روک تھام کا ذریعہ بھی ہے، کیونکہ تین مضبوط عسکری قوتوں کا اتحاد کسی بھی جارحیت کی حوصلہ شکنی کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے بات چیت کے دروازے اب بھی کھلے ہیں اور پاکستان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔











