نیروبی (پاک ترک نیوز) مشرقی افریقہ کی سب سے بڑی معیشت کینیا نے آئندہ 30 برسوں کے لیے ایک جامع ترقیاتی منصوبہ پیش کر دیا ہے، جس کا مقصد 2060 تک امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے معیار تک پہنچنا ہے۔
صدر ولیم روٹو کی حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس منصوبے کے تحت زراعت، برآمدات، صنعت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کو قومی ترقی کا محور بنایا گیا ہے۔
نئی حکمتِ عملی کے مطابق زرعی پیداوار میں اضافہ، برآمدات پر مبنی صنعتوں کا فروغ، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی میں سرمایہ کاری اور مضبوط معاشی نظم و نسق کو ترجیح دی جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ 2030 سے 2060 تک نافذ العمل رہے گا اور اس کے تحت کینیا کو سیاسی طور پر مستحکم، قانون کی حکمرانی پر قائم، مضبوط سول سروس اور پائیدار سرکاری مالیاتی نظام رکھنے والا ملک بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آصف زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
یہ منصوبہ سابقہ ویژن 2030 پروگرام کی جگہ لے گا۔ حکومت نئی قانون سازی اور ایک آزاد عملدرآمدی ادارہ بھی قائم کرے گی تاکہ ترقیاتی منصوبے حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہوں۔
صدر ولیم روٹو کا کہنا ہے کہ ماضی میں کئی قومی منصوبے صرف اس لیے ادھورے رہ گئے کیونکہ نئی حکومتوں نے سابق حکومتوں کے منصوبے ترک کر دیے تھے۔
منصوبے کے تحت رواں سال ستمبر سے یونیورسٹی اور کالج کے طلبہ کو مکمل مالی معاونت فراہم کر کے اعلیٰ تعلیم تک سب کی رسائی یقینی بنانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، تاکہ مستقبل کی صنعتی ضروریات کے مطابق ہنر مند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔
بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے سڑکوں، ریلوے لائنوں اور بندرگاہوں پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ان منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے نیشنل انفراسٹرکچر فنڈ قائم کیا گیا ہے، جس میں اس وقت 2.7 ارب ڈالر موجود ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت نے قومی اثاثوں کے تحفظ اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے ساورن ویلتھ فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار معاشی فوائد یقینی بنائے جا سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس 30 سالہ منصوبے کا بنیادی مقصد کینیا کو ایک مضبوط، خود کفیل اور جدید معیشت میں تبدیل کرنا ہے، جو عالمی سطح پر ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔












