صنعا(پاک ترک نیوز )یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے بحیرہ احمر کے اہم اور اسٹریٹجک جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ کردیا۔عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق جزیرہ میون پر قبضے کے بعد حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انصار اللہ نے گزشتہ روز بھی آبنائے باب المندب پر اپنی گرفت مضبوط ہونے کا اعلان کیا تھا۔حوثی تنظیم نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے زیر استعمال امریکی ساختہ بکتر بند ٹینک پر قبضے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کا نکاح
عرب میڈیا کے مطابق انصار اللہ نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پانچ ہزار چار سو مربع کلومیٹر کے علاقے سے پسپا کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔حوثیوں کا کہنا ہے کہ قبضے میں لیے گئے علاقے سے لاکھوں ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے، جس کے ذریعے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ جزیرہ میون باب المندب کے عین قریب واقع ہونے کے باعث خطے میں غیر معمولی تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم انصار اللہ کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔








