اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) عالمی مالیاتی ادارے نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث توانائی کے شدید بحران کے باوجود عالمی معیشت توقعات سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے اور 2026 میں عالمی معاشی شرح نمو تقریباً 3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔آئی ایم ایف کی ترجمان جولی کوزیک نے کہا ہے کہ جنگ کے باعث تیل اور گیس کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں اور توانائی کا بحران ختم نہیں ہوا۔ اس کے ساتھ عالمی قرضوں کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے جبکہ مہنگائی میں کمی کا عمل سست پڑ گیا ہے۔
جولی کوزیک کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کو چھ ماہ گزرنے کے باوجود عالمی معیشت اب تک مضبوطی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ بعض ممالک نے اپنے تیل اور گیس کے ذخائر استعمال کرکے توانائی کے جھٹکے کا مقابلہ کیا، جبکہ کچھ ممالک نے توانائی کے متبادل ذرائع اختیار کیے یا طلب میں کمی لانے کے اقدامات کیے۔آئی ایم ایف نے جولائی میں 2026 کے لیے عالمی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3 فیصد لگایا تھا، جو 2024 اور 2025 کی اوسط 3 اعشاریہ 5 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں کم ہے۔
تاہم آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت کو اب بھی کئی بڑے خطرات کا سامنا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ تیل، گیس، کھاد، خوراک اور دیگر اشیا کو مزید مہنگا کرسکتا ہے، جبکہ شمالی نصف کرۂ ارض میں موسم سرما قریب آنے کے باعث توانائی کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق عالمی سرکاری قرضے پہلے ہی مجموعی عالمی پیداوار کے تقریباً 100 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد بلند ترین سطح ہے، اور مستقبل میں اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ترقی پذیر ممالک، خصوصاً افریقی ممالک میں مالیاتی دباؤ اور نقدی کی کمی بھی بڑھ رہی ہے۔ دو طرفہ مالی امداد میں کمی کو بھی اس صورتحال کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے مرکزی بینکوں پر زور دیا ہے کہ وہ قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز رکھیں، جبکہ حکومتیں بجٹ خسارے اور قرضوں میں بتدریج کمی کے لیے درمیانی مدت کی واضح حکمت عملی تیار کریں۔دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت عنصر بن کر سامنے آئی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ایک طرف توانائی کا بحران عالمی معیشت پر دباؤ ڈال رہا ہے تو دوسری جانب مصنوعی ذہانت سے وابستہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری معاشی سرگرمیوں کو سہارا دے رہی ہے۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی نئی پابندیوں کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا، خصوصاً ان ممالک اور کمپنیوں پر ممکنہ اثرات کا جو ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھتے ہیں۔












