لاہور( پاک ترک نیوز) انٹارکٹیکا کے برفانی صحرا سے ایسی خبر سامنے آگئی جس نے سائنسدانوں کی تشویش بڑھا دی۔۔۔زمین کے سرد ترین براعظم انٹارکٹیکا میںسائنسدانوں نے سینکڑوں ایسے زلزلہ نما واقعات دریافت کر لیے ہیںجن کا پہلے کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔اور سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہان میں سے 245 واقعات ’’قیامت کے گلیشیئر‘‘ کہلانے والے تھوائٹس گلیشیئر کے قریب ریکارڈ ہوئے ہیں۔یہ کوئی عام زلزلے نہیں۔۔۔سائنسدانوں کے مطابق یہ برفانی زلزلے ہوسکتے ہیں۔
جب گلیشیئر سے دیوہیکل برفانی تودے ٹوٹ کر سمندر میں گرتے ہیں،پھر الٹ کر دوبارہ گلیشیئر سے ٹکراتے ہیں،تو زمین کے اندر طاقتور ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔تحقیق کے دوران انٹارکٹیکا میں 360 سے زائد زلزلہ نما واقعات سامنے آئے،جن میں سے بیشتر کسی بھی روایتی زلزلہ ریکارڈ میں شامل نہیں تھے۔سب سے زیادہ سرگرمی تھوائٹس گلیشیئر کے قریب دیکھی گئی۔یہ وہی گلیشیئر ہے جسے ماہرین ’’ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ یعنی قیامت کا گلیشیئر کہتے ہیں۔تحقیق کے مطابق 2018 سے 2020 کے دوران یہاں برفانی زلزلوں کی سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوا۔اور حیران کن طور پراسی عرصے میں تھوائٹس گلیشیئر کی سمندر کی جانب حرکت بھی تیز ہوگئی تھی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے سمندر میں آنے والی تبدیلیوں نے گلیشیئر کی اس حرکت اور عدم استحکام میں کردار ادا کیا ہو۔تھوائٹس گلیشیئر دنیا کے سب سے زیادہ زیرِ نگرانی گلیشیئرز میں شامل ہے۔ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر یہ گلیشیئر بڑے پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہواتو عالمی سطح سمندر میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔یعنی انٹارکٹیکا میں برف کا یہ دیوہیکل تودہدنیا کے ساحلی علاقوں کے لیے مستقبل میں ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔دوسری جانب پائن آئی لینڈ گلیشیئر کے قریب بھی متعدد زلزلہ نما واقعات ریکارڈ ہوئے،لیکن وہ گلیشیئر کے ساحلی سرے سے 60 سے 80 کلومیٹر دور تھے،اس لیے سائنسدان ابھی ان کی اصل وجہ معلوم نہیں کرسکے۔سوال یہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کولمبیا کے شہر کیلی میں 7.4شدت کا طاقتور زلزلہ، شدید خوف و ہراس پھیل گیا
کیا انٹارکٹیکا کے نیچے ہونے والی یہ پراسرار سرگرمیاںکسی بڑے ماحولیاتی بحران کا ابتدائی اشارہ ہیں؟کیا سمندر گرم ہونے کے ساتھدنیا کے خطرناک ترین گلیشیئرز بھی عدم استحکام کا شکار ہو رہے ہیں؟سائنسدانوں کے پاس ابھی تمام جواب نہیں۔۔۔لیکن انٹارکٹیکا سے آنے والی یہ پراسرار گونج دنیا کے لیے ایک بڑی وارننگ ضرور سمجھی جا رہی ہے۔












