راولپنڈی ( پاک ترک نیوز) حکومتِ پنجاب نے راولپنڈی رنگ روڈ کے دونوں اطراف مجوزہ سروس ایریاز کے لیے جاری کیے گئے این او سیز منسوخ کرنے کے لیے باضابطہ کارروائی شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق خدشہ ہے کہ سابق ضلعی انتظامیہ کے بعض افسران نے صوبائی حکومت سے پیشگی منظوری لیے بغیر سروس ایریاز کے این او سیز جاری کیے، جس سے اربوں روپے کے اس منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی کی کوشش کی گئی۔
حکام اس معاملے کے قانونی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ این او سیز سے متعلق تمام ریکارڈ اکٹھا کرکے پنجاب حکومت کو بھجوایا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ این او سیز کے اجرا سے قبل ہونے والے متنازع اجلاس کی کارروائی بھی صوبائی حکومت کے سامنے پیش کی جائے گی تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا تمام قانونی تقاضے، قواعد و ضوابط اور سرکاری طریقہ کار پر عمل کیا گیا تھا یا نہیں۔اگر تحقیقات میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ انتظامی اور تکنیکی مسائل کے باعث تاخیر کا شکار ہے۔ جولائی کے دوسرے ہفتے میں منصوبے کے افتتاح کی مقررہ ڈیڈ لائن گزر چکی ہے، تاہم سڑک تاحال ٹریفک کے لیے نہیں کھولی جا سکی۔
ذرائع کے مطابق مختلف مقامات پر فینسنگ، یوٹیلیٹی سروسز کی منتقلی اور دیگر انجینئرنگ کام ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے۔
منصوبے سے وابستہ ادارے، جن میں راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی آئیسکو، سوئی ناردرن گیس، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، محکمہ آبپاشی، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں، باقی ماندہ تکنیکی اور انتظامی مسائل حل کرنے کے لیے باہمی رابطے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کو پاکستانی برآمدات میں 50 فیصد سے زائد اضافہ
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت اس اربوں روپے مالیت کے منصوبے کو قانونی تنازعات اور انتظامی پیچیدگیوں سے پاک رکھتے ہوئے جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے، اسی لیے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جائزہ مکمل ہونے کے بعد پنجاب حکومت فیصلہ کرے گی کہ سروس ایریاز کے این او سیز برقرار رکھے جائیں یا انہیں مکمل طور پر منسوخ کر دیا جائے۔









