لاہور( پاک ترک نیوز) مشتری کے چاند یوروپا نے سائنسدانوں کو ایک بار پھر حیران کردیا ہے۔ تحقیق کے مطابق یوروپا کی برفیلی سطح کے نیچے ایسا وسیع نمکین سمندر موجود ہوسکتا ہے جس میں زمین کے تمام سمندروں سے دوگنا سے بھی زیادہ پانی ہو۔۔۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سمندر میں موجود طاقتور دھاروں کا مقناطیسی سگنل اتنا کمزور ہوسکتا ہے کہ اسے خلا سے پکڑنا انتہائی مشکل ہوگا۔مشتری کے چاند یوروپا کا قطر تقریباً 3 ہزار 120 کلومیٹر ہے۔ باہر سے یہ مکمل طور پر برف سے ڈھکا ہوا دکھائی دیتا ہے، لیکن سائنسدانوں کے مطابق اس برفیلی تہہ کے نیچے ایک عالمی سطح کا نمکین سمندر موجود ہے۔
ناسا کے اندازوں کے مطابق یہ سمندر تقریباً 60 سے 150 کلومیٹر گہرا ہوسکتا ہے۔ حجم اتنا زیادہ ہے کہ اس میں موجود مائع پانی زمین کے تمام سمندروں کے مجموعی پانی سے دوگنا سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ لیکن یوروپا کا یہ سمندر ساکن نہیں۔ ماڈلز کے مطابق اندرونی حرارت، برف اور پانی کے باہمی تعامل اور مشتری کی کششِ ثقل کے باعث اس میں بڑے پیمانے پر سمندری دھاریں، بھنور اور گردش پیدا ہوسکتی ہے۔چونکہ نمکین پانی بجلی گزار سکتا ہے، اس لیے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ حرکت کرتا پانی مشتری کے مقناطیسی میدان میں اپنا ایک اضافی مقناطیسی میدان پیدا کرے گا۔
تاہم 2025 میں کی گئی ایک عددی تحقیق نے اس سگنل کے بارے میں ایک دلچسپ انکشاف کیا۔سائنسدانوں نے حساب لگایا کہ یوروپا کے حرکت کرتے نمکین پانی سے پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان چاند کی سطح پر ایک نینو ٹیسلا یا اس سے بھی کم ہوسکتا ہے۔ایک نینو ٹیسلا، ٹیسلا کی ایک اربویں اکائی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ یوروپا کے سمندر کے شواہد ختم ہوگئے ہیں۔درحقیقت، یوروپا کے سمندر کا بنیادی مقناطیسی ثبوت اس سے مختلف عمل سے سامنے آیا تھا۔ مشتری کے بدلتے ہوئے مقناطیسی میدان کے جواب میں یوروپا کے نمکین سمندر میں برقی رو پیدا ہوتی ہے، جس سے ایک ثانوی مقناطیسی میدان بنتا ہے۔ اسی ردعمل نے یوروپا کے اندر زیرِ زمین سمندر کے وجود کے مضبوط شواہد فراہم کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا کے گلیشیئر کے نیچے سینکڑوں زلزلے دریافت، سائنسدان بھی پریشان
اصل مشکل یوروپا کے گرد موجود انتہائی پیچیدہ ماحول ہے۔ مشتری کا طاقتور مقناطیسی میدان، چارج شدہ ذرات، یوروپا کی آئنوسفیئر اور خود خلائی جہاز کے مقناطیسی اثرات ایک انتہائی کمزور سگنل کو چھپا سکتے ہیں۔اسی لیے سائنسدانوں کے لیے چیلنج صرف ایک نینو ٹیسلا کے سگنل کو محسوس کرنا نہیں، بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ سگنل واقعی یوروپا کے سمندر کی حرکت سے پیدا ہوا ہے۔ناسا کا یوروپا کلپر مشن 2030 میں یوروپا کے تفصیلی مطالعے کا آغاز کرے گا۔ خلائی جہاز مقناطیسی میدان کے ساتھ ساتھ ریڈار، کیمروں، کششِ ثقل اور دیگر آلات کی مدد سے برف کے نیچے چھپے سمندر کے راز جاننے کی کوشش کرے گا۔یورپی خلائی ایجنسی کا جوس مشن بھی یوروپا کے قریب سے گزرے گا۔











