استنبول (پاک ترک نیوز)استنبول کی ایک عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی غزہ جانے والی انسانی امداد کے فلوٹیلا کو اسرائیل کی جانب سے روکنے پر بین الاقوامی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ فیصلہ استنبول کی 11 ویں ہائی کریمنل کورٹ نے گذشتہ روز اسرائیلی فوج کی جانب سے سمود امدادی فلوٹیلا کو قبضے میں لینے سے متعلق جاری مقدمے کی سماعت کے دوران جاری کیا، جس میں اس کے مسافروں میں ترک شہری بھی شامل تھے۔
یہ مقدمہ ایک وسیع فوجداری مقدمے کا حصہ ہے جس میں نیتن یاہو اور کئی سینئر اسرائیلی حکام کوفریق بنایا گیا ہے۔ استغاثہ نے ان پر انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی، جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا اور تشدد سمیت متعدد جرائم کےالزام لگائے ہیں۔
فرد جرم میں املاک کو نقصان پہنچانے، بڑھتی ہوئی لوٹ مار، نقل و حمل میں رکاوٹ، جہازوں کو ہائی جیک کرنے یا غیر قانونی حراست میں رکھنے اور آزادی سے غیر قانونی محرومی کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی معاہدہ نہ کرنے پر ایران کے بجلی گھر اور پل تباہ کرنے کی دھمکی
یہ کارروائی نومبر 2025 میں ایک سابقہ فیصلے کے بعد کی گئی تھی۔ جب استنبول کی ایک عدالت نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے دوران فلوٹیلا کے واقعے اور مبینہ جرائم دونوں پر نیتن یاہو اور درجنوں دیگر اسرائیلی حکام کے لیے ابتدائی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
اپریل 2026 میں استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے یہ دلیل دیتے ہوئے کہ ترکیہ کی عدالتیں بین الاقوامی سمندری قانون کے تحت دائرہ اختیار رکھتی ہیں مدعا علیہان کے لیے عمر بھر کی سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے فرد جرم عائد کی تھی۔












