اسلام آباد (پاک ترک نیوز )پاکستان کی معاشی کارکردگی اور اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا مشن 23 ستمبر کو پاکستان پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا مشن تقریباً دو ہفتے تک پاکستان میں قیام کرے گا اور اکتوبر کے پہلے ہفتے میں مذاکرات مکمل ہوں گے۔ آئی ایم ایف مشن پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت چوتھے جائزے جبکہ ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی ماحولیاتی پائیداری سہولت کے تحت تیسرے جائزے کا انعقاد کرے گا۔
مذاکرات کا آغاز اسٹیٹ بینک میں تکنیکی سطح کی بات چیت سے ہوگا، جس کے بعد حکومتی معاشی ٹیموں کے ساتھ مختلف شعبوں میں ملاقاتیں کی جائیں گی۔ مشن کی قیادت آئیوا پیٹرووا کریں گی جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے بھی ابتدائی ملاقات متوقع ہے۔
جائزے میں سب سے اہم معاملہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا کرنے کی صلاحیت ہوگا۔ آئی ایم ایف اس بات کا جائزہ لے گا کہ وفاقی ادارہ محصولات مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے لیے مقررہ محصولات کے ہدف کو حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں۔
پاکستان نے رواں مالی سال قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبوں کا ایک کھرب تین ہزار پانچ ارب روپے سے زائد حصہ بھی وفاق کو منتقل کیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر صوبوں نے ایک کھرب 80 ارب روپے کے نقد سرپلس کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون 2026 تک مالی اور مالیاتی شعبے میں پاکستان کی کارکردگی مجموعی طور پر ہدف کے مطابق رہی، تاہم محصولات میں نمایاں کمی اور بعض پالیسی شرائط پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی۔












